سواتی بچے سڑک کنارے سیاحوں کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محمد ایاز ایک بجے سکول سے آتا ہے۔ جلدی جلدی کھانا کھا کر وہ دنداسہ ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر آتا ہے اور سڑک کے کنارے شام تک کھڑا رہتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے سیاح اس سے دنداسہ خرید لیں اور اس کے گھر کا خرچہ چلتا رہے۔ آجکل محمد ایاز خفا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس سیزن میں ’مہمان‘ کم تعداد میں کالام آ رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کا دنداسہ نہیں بک رہا۔ سوات میں باہر کے شہروں سے آنے والے لوگوں کو مہمان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ محمد ایاز اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور گھر کا واحد کفیل بھی ہے۔ اس کے والد کالام میں ایک ہوٹل میں ویٹر تھے۔ چند سال قبل ایک حادثے میں وہ ایک پاؤں سے معزور ہوگئے جس کے بعد سے وہ کوئی کام نہیں کر رہے۔
بارہ سالہ محمد ایاز کی طرح ایسے درجنوں بچے بچیاں لائی کوٹ سے کالام تک سڑک کے کنارے نظر آتے ہیں جو ہاتھوں میں دنداسہ اور دیگر مقامی فروٹ لیے آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں ’صاحب جی دس روپے دنداسہ لو دس روپے غنمرنگے‘۔ لائی کوٹ سے کالام تک تقریباً پندرہ کلومیٹر پر مشتمل سڑک بارشوں کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور یہاں سڑک پر گاڑیوں کی رفتار انتہائی کم ہوتی ہیں۔ جونہی سیاحوں کی گاڑیاں لائی کوٹ پہنچتی ہیں تو سڑک کے کنارے کھڑے یہ بچے ان کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں۔ دنداسہ اور غنمرنگے فروخت کرنے والے یہ تمام بچے بچیاں مقامی ہیں جن کی عمریں تقریباً دس سے پندرہ سال کے درمیان ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے سوات آنے والے سیاح ان بچوں کے لیے ذریعہ معاش ثابت ہورہے ہیں۔
لائی کوٹ کے ایک اور بچے شاہنواز نے بتایا کہ گزشتہ سال مہمان زیادہ آتے تھے تاہم اس سال سیاحوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے وہ روزانہ سو ایک سو بیس روپے کماتا تھا لیکن آجکل تو بمشکل پندرہ سے بیس روپے ہی ملتے ہیں۔ سوات میں سرحد حکومت اور مقامی طالبان کے مابین امن معاہدہ طے پاچکا ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں حکومت کی عمل داری بھی بحال ہوچکی ہے لیکن علاقے کے اہم سیاحتی مراکز کی رونقیں تاحال بحال نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے کی رونقیں بحال ہونے میں دو سے تین سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں چار برس میں تشدد کے تین سوواقعات18 June, 2008 | پاکستان سرحد حکومت سے روابط منقطع:طالبان 17 June, 2008 | پاکستان سوات: ’معاہدے کی اہمیت نہیں‘22 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||