BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 June, 2008, 09:11 GMT 14:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات تشدد: ہوٹل، سکول نذر آتش

سوات ہوٹل
تشدد کی لہر کے باعث سوات میں سیاحت پہلے ہی مندے کا شکار ہے
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ تشدد کے مختلف واقعات میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ایک بڑے ہوٹل اور لڑکیوں کے ایک سکول کو نذرآتش کردیا ہے جبکہ ایک پولیس چوکی کو بھی دھماکہ خیز مواد میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کے مطابق بدھ کی رات سو کے قریب مسلح افراد نے اہم سیاحتی مرکز مالم جبہ میں واقع پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ( پی ٹی ڈی سی) کے ایک بڑے ہوٹل کو تیل چھڑک کر آگ لگائی جس سے پچاس کمروں پر مشتمل ہوٹل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

سوات میں پی ٹی ڈی سی کے ایک اہلکار بختیار حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ آگ سے ہوٹل سے ملحق واقع تیرہ سرونٹ کوارٹرز مکمل طوپر جل راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں پچاس کمرے تھے جن میں سے تیس سے زائد مکمل طورپر تباہ ہوگئے ہیں جبکہ دیگر کمرے بھی جزوی طورپر تباہ ہونے کے بعد استعمال کے قابل نہیں رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہوٹل 1998 میں بیس کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا افتتاح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کیا تھا۔

دوسرا واقعہ گزشتہ رات گئے پارڑئی کوٹ کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے گرلز مڈل سکول کو آگ لگائی جس سے سکول کا فرنیچر اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ تھانہ غلیگی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آگ سے صرف سکول کے فرنیچر اور ریکارڈ تباہ ہوا ہے جبکہ سکول کی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

نامعلوم افراد نے غلیگی کے علاقے میں ایک پولیس چوکی کو بھی دھماکہ خیز مواد میں نشانہ بنایا ہے جس سے دو کمروں پر مشتمل چوکی تباہ ہوگئی ہے۔ تھانہ غلیگی کے ایک اہلکار مشرف خان نے بتایا کہ دھماکے کے وقت چوکی میں کوئی اہلکار موجود نہیں تھا۔

ادھر سوات ہی میں ایک اور واقعہ میں پیپلز پارٹی شیرپاؤ کے صدر شیر شاہ کے گھر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں ایک محافظ زخمی ہوگیا ہے۔
سوات میں تشدد کے واقعات ایسے وقت ہورہے ہیں جب سرحد حکومت اور سوات کے مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہونےکے بعد ضلع میں مکمل طورپر امن بحال نہیں ہوسکا ہے۔ فریقین کے درمیان مزاکرات کا نیا دور آج یعنی جمعرات کو پشاور میں ہوگا۔

واضح رہے کہ تین دن قبل سوات میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین ایک جھڑپ میں دو جنگجو کمانڈر مارے گئے تھے جس کے بعد علاقے میں تشدد کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ گزشتہ دو دنوں میں سوات میں لڑکیوں کے گیارہ کے قریب سکولوں کو نذرآتش یا بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
سوات: ایک ہلاک دو زخمی
25 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد