رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | سوات میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے |
صوبہ سرحد کی شورش زدہ وادی سوات میں گزشتہ روز مقامی طالبان کی طرف سے سرحد حکومت سے دوبارہ امن بات چیت شروع کرنے کے اعلان کے بعد بھی وہاں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ واقعات میں لڑکیوں کے ایک سکول کو بم کے دھماکے سے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایک مارٹر گولہ گھر پر گرنے سے چار خواتین اور دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق بدھ کی رات تحصیل کبل کے علاقے گاڑھی میں نامعلوم مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک مڈل سکول کو بارود سے اڑانے کی کوشش کی جس سے سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تھانہ کبل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سکول دو سیکشنز پر مشتمل تھا جس میں سے پرائمری سکیشن میں واقع تمام کمروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ دوسرا واقعہ مٹہ تحصیل میں پیش آیا جہاں سکیورٹی فورسز اور مشتبہ عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک مارٹر گولہ گھر پر گرنے سے چار خواتین اور دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مارٹر گولہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے داغا گیا تھا تاہم سرکاری طورپر اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ گزشتہ روز بھی مسلح افراد نے لال کوہ کے علاقے میں پولیس چوکی اور لڑکوں کے ایک سکول کو نذرآتش کیا تھا۔ سوات میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران طلباء و طالبات کے درجنوں سکولوں اور ہوٹلوں کو نذرآتش یا بم دھماکے میں نشانہ بنایا جاچکا ہے جبکہ سیاسی رہنماؤں اور پولیس اہلکاروں پر بھی متعدد قاتلانہ حملے کئے جاچکے ہیں۔ سوات کے مقامی طالبان نے گزشتہ روز سرحد حکومت سے معطل امن مذاکرات دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں نے تقربناً دو ہفتے قبل یہ مذاکرات تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے کہنے پر معطل کیے تھے۔ واضح رہے کہ سوات میں امن معاہدے کے بعد تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے تاہم حکومت ان واقعات میں ملوث کسی فرد کو تاحال گرفتار نہیں کرسکی ہے۔
|