BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 July, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: حکومت و طالبان مذاکرات

بشیر احمد بلور _ معاہدہ فائل فوٹو
سرحد حکومت اور سواات طالبان کے درمیان پہلے معاہدے کے بعد سرحد کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور نے معاہدے کی تفصیلات بتائیں
صوبہ سرحد کی حکومت اور سوات کے مقامی طالبان نے ایک بار پھر امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا عزم کرتے ہوئے تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے سے حل کرانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ حکومت نے گرفتار تمام طالبان قیدیوں کی فوری رہائی اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں میں کمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سوات کے صدر مقام مینگورہ میں پیر کو ریجنل کوآرڈنیشن آفیسر کے دفتر میں سرحد حکومت اور مقامی طالبان کے نمائندوں کے درمیان چند روز کے تعطل کے بعد دوبارہ امن مذاکرات کا آغاز ہوا جس میں صوبائی حکومت کی نمائندگی وزیر ماحولیات واجد علی اور ایم پی اے ڈاکٹر شمشیر علی خان نے کی جبکہ مقامی طالبان کی طرف سے ان کے ترجمان مسلم خان اور دیگر طالبان رہنماوں نے شرکت کی۔

مذاکرات کے اختتام پر صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بات چیت بڑے اچھے اور دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں فریقین نے مذاکرات کے عمل سے تمام مسائل حل کرانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سوات میں شرعی نظام کے وعدے پر قائم ہے اور دو ماہ کے اندر اندر یہ کام مکمل کر لیا جائے گا جبکہ اس سلسلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں فوجی یا دیگر کارروائیوں کے دوران جن لوگوں کو جانی مالی نقصانات پہنچے ہیں ان کو کل سے چیک ملنے شروع ہوئے ہیں اور جیلوں سے تمام طالبان قیدیوں کو بھی بہت جلد ہی رہا کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وادی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے بنائے گئے چیک پوسٹوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور غیر ضروری چیک پوسٹوں کو باہمی مشاورت سے ختم کردیا جائے گا۔

دوسری طرف سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان مسلم خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات پورے کرنے پر کل سے عمل درآمد کا وعدہ کیا ہے۔

تمام مطالبات پر عمل کا وعدہ
 مقامی طالبان کے ترجمان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات پورے کرنے پر کل سے عمل درآمد کا وعدہ کیا ہے
مسلم خان

انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت سے پوری طرح مطمئن ہیں اور امید بھی کرتے ہیں کہ ان سے جو وعدے کیے گئے ہیں ان پر عمل درآمد ضرور ہوگا۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سوات کے طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے کہنے پر سرحد حکومت سے جاری ہر قسم کی بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد میں بیت اللہ محسود کی طرف سے خصوصی اجازت کے بعد مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں نے صوبائی حکومت سے امن بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

سوات میں چند ہفتوں کے دوران طلباء و طالبات کے دو درجن سے زائد سکولوں اور ہوٹلوں کو نذرآتش یا بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے جبکہ کئی سیاسی رہنماؤں اور پولیس اہلکاروں پر بھی قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ طالبان ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد