’سوات امن معاہدہ ختم نہیں ہوا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ سوات کے مقامی طالبان سے کیا گیا امن معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے جبکہ طالبان نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے ان پر دوبارہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس بار وہ قبائلی علاقوں میں نہیں لڑیں گے بلکہ اور علاقوں کو میدان جنگ بنائیں گے جو اسلام آباد اور پنجاب کے علاقے بھی ہوسکتے ہیں ۔ سرحد حکومت کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر بلور نے کہا ہے کہ وہ اپنے معاہدے پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ’اگر وفاقی حکومت کو کوئی تحفظات ہیں تو وہ وزیراعلٰی کو اعتماد میں لیں۔ تبھی ہمیں بھی معلوم ہو سکے گا کہ اصل مسئلہ ہے کیا‘۔ پیر کو وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے مبینہ طور پر غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے اس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات کے شدت پسندوں نے اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جس کے بعد امن معاہدہ برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس بابت انہوں نے گزشتہ دنوں اسلام آباد سے گرفتار کیے جانے والے نو مبینہ شدت پسندوں کا حوالہ بھی دیا تھا جو بقول ان کے اہم اہداف کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ اس بیان پر رحمان ملک اور وزارت داخلہ کے اہلکاروں سے کوششوں کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ سوات کے مقامی طالبان نے بھی اس بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا معاہدہ سرحد حکومت سے ہوا تھا وفاقی حکومت سے نہیں لہذا وہ برقرار ہے جبکہ تحریک طالبان پاکستان نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے ان پر جنگ مسلط کرنے کوشش کی تو اس مرتبہ وہ قبائلی علاقوں کی بجائے کسی اور علاقے کو میدان جنگ بنائیں گے جو تنظیم کے مطابق اسلام آباد یا پنجاب بھی ہو سکتا ہے۔ تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ طالبان نے بہت سوچ بچار اور تلخیوں کے بعد حکومت سے مذاکرات شروع کیے اور بدستور امن کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بدستور حکومت سے کئی گئی جنگ بندی پر قائم ہیں تاہم حکومت جب بھی فائر بندی کی خلاف ورزی کرے گی تو طالبان اس کا بھرپور جواب دیں گے۔ یاد رہے کہ اس سال اکیس مئی کو سرحد حکومت نے صرف تیرہ روزہ مذاکرات کے بعد سوات کے شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیے تھے۔اس سولہ نکاتی معاہدے کے بعد سے حالات قدرے معمول پر آ گئے تھے اور فریقین کو کوئی ایسی بڑی شکایت نہیں پیدا ہوئی تھی۔ رحمان ملک کے اس تازہ متنازعہ بیان سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ایک مرتبہ پھر تناؤ پیدا ہوا ہے۔ اس سے قبل ضمنی انتخابات کے معاملے پر رحمان ملک کی وجہ سے سرحد حکومت اور وفاقی حکومت میں تناؤ دیکھنے میں آیا تھا۔ | اسی بارے میں ’اب بھی فضل اللہ کا ساتھ دیں گے‘07 June, 2008 | پاکستان سرحدمیں چھ طالبان کو رہا کر دیا گیا07 June, 2008 | پاکستان ’طالبان رہا نہ ہوئےتو معاہدہ خطرےمیں‘06 June, 2008 | پاکستان حکومت و طالبان کا امن معاہدہ21 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||