BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 August, 2008, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں لڑائی، نقل مکانی

مینگورہ کی جانب نقل مکانی
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران کرفیو میں پانچ گھنٹے کی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درجنوں خاندانوں کی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کا سلسہ جاری ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ پانچ روز سے وقفے وقفے سے جاری جھڑپوں میں گزشتہ شب سے کمی آئی ہے۔ مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ سے متاثرہ علاقوں تحصیل کبل اور مٹہ سے جمعہ کے روز دس بجے کرفیو میں نرمی آنے کے بعد پیدل اورگاڑیوں میں سوار درجنوں خاندان محفوظ مقامات کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔

سعودی عرب میں محنت مزدوری کرنے کے بعد چھٹیوں پر آنے والے ایک شخص ناہید علی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ان کو خواتین ، بچے، جوان اور معمر افراد نظر آرہے ہیں جو صدر مقام مینگورہ کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق پانچ دنوں کی گولہ بھاری اور کرفیو کے نفاذ کے بعد گزشتہ شب سے کچھ خاموشی چھاگئی ہے جبکہ حکومت نے کل کے مقابلے میں جمعہ کوکرفیو میں پانچ گھنٹے کی نر می کی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بہتر ہوتی ہوئی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ غذائی اشیاء اور دیگر ضروری چیزیں خریدنے کے لیے گھروں سے نکل آئے ہیں۔

بجلی اور ٹیلیفون لائن منقطع
 مٹہ کے ایک اور رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں جنگی صورتحال کی وجہ سے بازاروں میں کھانے پینے کی تازہ اشیاء دستیاب نہیں ہیں اور جو باسی چیزیں مل رہی ہیں ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں گزشتہ چار دنوں سے بجلی معطل ہے اور ٹیلی فون کے نظام کو خاموش کردیا گیا ہے۔
مٹہ کے ایک اور رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں جنگی صورتحال کی وجہ سے بازاروں میں کھانے پینے کی تازہ اشیاء دستیاب نہیں ہیں اور جو باسی چیزیں مل رہی ہیں ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں گزشتہ چار دنوں سے بجلی معطل ہے اور ٹیلی فون کے نظام کو خاموش کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ باغات میں تیار فصلیں خراب ہورہی ہیں اور کسی کو بھی اتنا موقع نہیں ملتا کہ اپنی فصلیں کاٹ کر منڈی تک پہنچا دیں۔

تین دنوں کی جھڑپوں کے بعد مقامی صحافی شیرین زادہ نے پہلی مرتبہ تحصیل مٹہ پہنچنے کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے وہاں پر مختلف گاؤں کو ملانے والے تین رابطہ پلوں کو منہدم پایا۔ ان کے بقول مٹہ ہسپتال کے دورے کے موقع پر انہوں نے وہاں پر کوئی ڈاکٹر نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق بچوں کے تمام سکول بند پڑے ہیں اور سرکاری دفاتر میں بھی کام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔

ضلع سوات میں سوموار کے روز سے طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور اس دوران حکومت نے پینتالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوی کیا جبکہ انہوں نے گیارہ سکیورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے جمعہ کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے حکومتی دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چار روز کے دوران ان کے صرف سات ساتھی مارے گئے ہیں۔

طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان دو طرفہ فائرنگ میں بارہ کے قریب عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔ ابھی تک فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
سوات:25 طالبان سمیت 30 ہلاک
30 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد