سوات: تین مزید سکول نذرآتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو جلائے جانے کا سلسلہ چوتھے روز بھی جاری رہا اور اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نےگزشتہ شب تین اور سکولوں کو نذرِ آتش کیا ہے۔ گزشتہ چار دنوں کے دوران تقریباً بارہ سکولوں کو جلایا گیا ہے جس کے ساتھ ہی نذرِ آتش کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ستر سے تجاوز کرگئی ہے۔ سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو صدر مقام مینگورہ کے وسط طاہرآباد میں واقع لڑکیوں کے ہائی سکول کو آگ لگائی جس سے تقریباً بائیس میں سے چھ کمروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ فرنیچراور دیگر سازوسامان مکمل طور پرتباہ ہوگیا ہے۔ ان کے بقول گزشتہ شب ہی کو شورش زدہ تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ اور کانجو کے ڈیرئی بابا کے گرلز پرائمری سکولوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس سے قبل جلائے جانے والے سکولوں کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی تھی۔
حکومت نے الزام لگایا ہے کہ مقامی طالبان نے اب تک ستر سے زائد سکولوں کو نذرِ آتش کیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں سترہ ہزار بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب سے سے کسی قسم کی کوئی کاروائی یا جوابی کارروائی نہیں ہوئی ہے جبکہ علاقے میں نافذ کردہ کرفیو میں منگل کی صبح چھ سے رات آٹھ بجے تک نرمی کی گئی ہے۔ سوات میں چھ روز قبل مقامی طالبان کے خلاف جوآپریشن شروع کیا گیا تھا اس میں فوج کے ڈویژن کمانڈر بریگیڈیئر ضیاء انجم بودلہ کے مطابق اٹھائیس شہریوں، چودہ اہلکاروں اور چورانوے طالبان سمیت ایک سو چھتیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ طالبان نے اب تک اپنے دس ساتھیوں کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ | اسی بارے میں سوات:بم حملے میں پانچ اہلکار ہلاک02 August, 2008 | پاکستان سوات:ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک31 July, 2008 | پاکستان سوات:تین گرلز سکول نذرِ آتش03 August, 2008 | پاکستان مزید سکول جلےاور ہلاکتوں کے دعوے04 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں راکٹ حملے05 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||