BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 August, 2008, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: تین مزید سکول نذرآتش

سوات
گزشتہ چار دنوں کے دوران تقریباً بارہ سکولوں کو آگ لگائی گئی ہے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو جلائے جانے کا سلسلہ چوتھے روز بھی جاری رہا اور اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نےگزشتہ شب تین اور سکولوں کو نذرِ آتش کیا ہے۔

گزشتہ چار دنوں کے دوران تقریباً بارہ سکولوں کو جلایا گیا ہے جس کے ساتھ ہی نذرِ آتش کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ستر سے تجاوز کرگئی ہے۔

سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو صدر مقام مینگورہ کے وسط طاہرآباد میں واقع لڑکیوں کے ہائی سکول کو آگ لگائی جس سے تقریباً بائیس میں سے چھ کمروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ فرنیچراور دیگر سازوسامان مکمل طور پرتباہ ہوگیا ہے۔

ان کے بقول گزشتہ شب ہی کو شورش زدہ تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ اور کانجو کے ڈیرئی بابا کے گرلز پرائمری سکولوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا ہے۔

ابھی تک کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس سے قبل جلائے جانے والے سکولوں کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی تھی۔

سوات
حکومت نے الزام لگایا ہے کہ مقامی طالبان نے اب تک ستر سے زائد سکولوں کو نذرِ آتش کیا ہے
میں مقامی طالبان کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی میں شدت آنے کے بعد سکولوں کے جلائے جانے کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گزشتہ چار دنوں کے دوران تقریباً بارہ سکولوں کو آگ لگائی گئی ہے۔

حکومت نے الزام لگایا ہے کہ مقامی طالبان نے اب تک ستر سے زائد سکولوں کو نذرِ آتش کیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں سترہ ہزار بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب سے سے کسی قسم کی کوئی کاروائی یا جوابی کارروائی نہیں ہوئی ہے جبکہ علاقے میں نافذ کردہ کرفیو میں منگل کی صبح چھ سے رات آٹھ بجے تک نرمی کی گئی ہے۔

سوات میں چھ روز قبل مقامی طالبان کے خلاف جوآپریشن شروع کیا گیا تھا اس میں فوج کے ڈویژن کمانڈر بریگیڈیئر ضیاء انجم بودلہ کے مطابق اٹھائیس شہریوں، چودہ اہلکاروں اور چورانوے طالبان سمیت ایک سو چھتیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ طالبان نے اب تک اپنے دس ساتھیوں کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

اسی بارے میں
وزیرستان میں راکٹ حملے
05 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد