BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 August, 2008, 07:11 GMT 12:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:بم حملے میں پانچ اہلکار ہلاک

سوات میں جاری لڑائی کی وجہ سے مقامی لوگ نقل مکانی پر مجبور

صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک بم حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفسر علی احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام پولیس کی ایک گاڑی تحصیل کبل کے ہزارہ پل کے قریب سڑک پر نصب ایک بم کے ساتھ ٹکرائی جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

ان کے بقول زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جن میں سے دو حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایڈیشنل ایس ایچ او، پٹرول آفسر اور ڈرائیور شامل ہیں۔علی احمد خان کے مطابق یہ پولیس اہلکار صدر مقام مینگورہ سے تنخواہیں لیکر واپس تحصیل کبل آ رہے تھے کہ بم حملے کا نشانہ بنے۔

پولیس اہلکاروں پر یہ حملہ ایک ایسے وقت ہواہے جب تحصیل کبل میں مکمل طور پر کرفیو نافذ ہے۔ ابھی تک کسی نے بھی اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ادھر سوات میں ہی مقامی طالبان نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکیوں کے دو سکولوں کو نذر آتش کر دیا ہے جبکہ دو رابطہ پلوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی طالبان نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تحصیل مٹہ کے سخرا علاقے میں واقع گرلز مڈل سکول اور صدر مقام مینگورہ میں لڑکیوں کے نجی تعلیمی ادارے کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے تحصیل خوازہ خیلہ میں دو رابطہ پلوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ اس سلسلے میں جب سوات میں طالبان کے ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان تمام واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی۔

اکسٹھ سکول تباہ کردیے گئے
 ان کارروائیوں کے نتیجے میں لڑکیوں کےاکسٹھ سکولوں کو تباہ کردیا گیا جس کے نتیجے میں سترہ ہزار بچیاں سکول جانے سے محروم ہوگئی ہیں۔

دوسری طرف تحصیل مٹہ میں سکیورٹی فورسز مشتبہ افراد کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کر رہے ہیں تاہم ابھی تک اس میں کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ شکردرہ ہی میں حکومت نے سرچ آپریشن کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

حکومت نے گزشتہ روز کے برعکس سنیچر کو شورش زدہ علاقوں تحصیل مٹہ، خوازہ خیلہ اور کبل میں نافذ کردہ کرفیو میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں کی ہے، البتہ صدر مقام مینگورہ میں صبح سات سے شام سات بجے تک کرفیو ہٹا دیا گیا ہے۔

ضلع سوات میں سوموار کے روز سے طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور انہوں نے آس پاس کے علاقوں کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

جھڑپوں کے دوران حکومت نے پینتالیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیاہے جبکہ انہوں نے گیارہ سکیورٹی اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے سنیچر کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے حکومتی دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چھ روز کے دوران ان کے صرف نو ساتھی مارے گئے ہیں۔

طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان دو طرفہ فائرنگ میں بارہ کے قریب عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے سات افراد بھی شامل ہیں۔ ابھی تک فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے۔

آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ
صوبہ سرحد میں اعلی سطح کےاجلاس میں حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ ضلع سوات میں’تخریب کار‘ عناصر کے خلاف شروع کی گئی کاروائی تمام تر مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔

طالبان سے معاہدے کی حیثیت
 فریقین کے درمیان شدید جھڑپوں کے باوجود دونوں نے اس سال مئی میں ہونے والےامن معاہدہ کو ختم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم طالبان نے دبے الفاظ میں کہا ہے کہ فوجی کاروائی شروع کرکے حکومت نے عملاً معاہدے کو ختم کر دیا ہے۔

حکومتی بیان کے مطابق اس عزم کا اظہار جمعہ کی شام گورنر ہاؤس پشاور میں صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی، وزیر اعلی حیدر خان ہوتی اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ محمد مسعود اسلم نے ایک اجلاس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ سوات آپریشن تمام تر مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا البتہ بیان میں ان مقاصد کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اجلاس میں الزام لگایا گیا کہ حکومت کی جانب سے امن معاہدے کو بامقصد بنانے کی کوششوں کے باوجود، تخریب پسند عناصر اور ان کی قیادت ’بلاوجہ تباہ کاری اور دہشت گردی‘ کو پروان چڑھانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں لڑکیوں کےاکسٹھ سکولوں کو تباہ کردیا گیا جس کے نتیجے میں سترہ ہزار بچیاں سکول جانے سے محروم ہوگئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ علاقے میں سرکاری املاک، پلوں اور اہلکاروں اور سرکردہ شخصیات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں جب طالبان ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا توانہوں نے حکومتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے آپریشن کر کے امن معاہدے کو توڑنے میں پہل کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے معاہدے میں موجود شقوں پر عملدرآمد نہ کرتے ہوئے ان کے ساٹھ سے زائد ساتھیوں کو مقررہ وقت پر رہا نہیں کیا۔

مسلم خان نے حکومت کی جانب سے انہیں’شر پسند‘ کہنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت نے ان کے ساتھ معاہدہ کر کے تحریری طور پر انہیں’طالبان‘ تسلیم کر لیا ہے اور بقول ان کے یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ حکومت طالبان کو ایک قوت کے طور پر مان رہی ہے۔

سوات میں اتوار کے روز طالبان کی جانب سے خفیہ ایجنسیوں کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے سوموار کوطالبان کے خلاف کاروائی شروع کردی تھی۔ حکومت کا موقف تھا کہ یہ محض ایک جوابی کاروائی ہے تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اعلی سطح کا ایک اجلاس ہوا ہے جس میں اسے ایک ’آپریشن‘ قراردیا گیا ہے۔

فریقین کے درمیان شدید جھڑپوں کے باوجود دونوں نے اس سال مئی میں ہونے والےامن معاہدہ کو ختم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم طالبان نے دبے الفاظ میں کہا ہے کہ فوجی کاروائی شروع کرکے حکومت نے عملاً معاہدے کو ختم کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
سوات میں لڑائی، نقل مکانی
01 August, 2008 | پاکستان
سوات:25 طالبان سمیت 30 ہلاک
30 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد