’طالبان کی خار کی جانب پیش قدمی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے لوئی سم کے علاقے پر قبضے کے بعد اب ایجنسی کے صدر مقام خار کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ مقامی حکام نے طالبان کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے اور اطلاعات ہیں کہ سینکڑوں مسلح طالبان خار کے نواح میں پہنچ چکے ہیں۔ لوئی سم کا علاقے خار سے قریباً بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ایک افسر نے سینیچر کی صبح یہ علاقہ خالی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا ایک حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کی اس پسپائی کی وجہ سے طالبان کو لوئی سم سے خار تک پہنچنے میں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ لوئی سم کے علاقے میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی دن سے جھڑپیں جاری تھیں جس کے بعد مقامی طالبان نے سینیچر کو لوئی سم کے علاقے پر قبضہ کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔ اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ’سکیورٹی فوسز لوئی سم کا علاقہ خالی کر کے واپس صدر مقام خار پہنچ چکی ہیں‘۔ انہوں نے طالبان کے ان دعؤوں کی تردید کی تھی کہ سکیوٹی فورسز کے کئی اہلکاروں کی لاشیں لوئی سم کے بازار میں جگہ جگہ پڑی ہیں۔میجر مراد نے گزشتہ روز ڈیلئی کے مقام پر سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپ میں چھ اہلکاروں کے ہلاک اور سولہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ان کے مطابق حملے میں مخالف فریق کو بھی بھاری جانی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چار دنوں کی جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے مجموعی طور پر تیرہ اہلکار مارے گئے ہیں۔ باجوڑ کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گزشتہ شب لوئی سم کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے ایک حملہ کیا اور ایک مارکیٹ میں محصور سات اہلکاروں کو بغیر کسی مزاحمت کے یر غمال بنایا گیا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ جن اہلکاروں کو محاصرے میں لیا گیا تھا وہ محفوظ راستوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ان کے دعوے کے مطابق طالبان نے پانچ گاڑیوں کو آگ لگائی ہے جبکہ ایک ٹینک کو بھی قبضہ میں لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ کئی دنوں کی جھڑپوں کے بعد پہلی مرتبہ لوئی سم کے بازار گئے جہاں پر انہوں نے مختلف مقامات پر تقریباً بائیس کے قریب اہلکاروں کی لاشیں پڑی دیکھیں۔ مقامی حکام نے جمعہ کو بی بی سی سے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے ایک سو پچاس اہلکاروں کو طالبان نے کئی دنوں سے محاصرے میں لیا ہوا ہے تاہم پاکستانی فوج نے اس بات کی تردید کی تھی۔اس سلسلے میں جب حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کردیا۔ مقامی لوگوں کا کہناہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد علاقے میں خاموشی چھاگئی ہے اور پاکستانی فوج نے گزشتہ چار دنوں سے بارہ کلومیٹر دور صدر مقام خار سے لوئی سم پر توپخانوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے حملوں کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ سنیچر کے روز رُک گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکیوٹی فورسز کے اہلکاروں کی لاشوں کو حوالے کرنے کے بارے میں مقامی حکام نے ایک جرگہ تشکیل دیا ہے جو طالبان کے ساتھ اس سلسلے میں رابطہ کرے گا۔ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان چند روز پہلے اس وقت جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جب سکیورٹی فورسز کے دو سو اہلکاروں نے لوئی کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی۔اس دوران حکومت نے سات اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ تیس طالبان کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ طالبان نے چند دنوں کی جھڑپوں میں پینسٹھ اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ اپنے سات ساتھیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی تھی۔ تھی۔طالبان ترجمان مولوی کے دعوے کے مطابق اس وقت تینتیس کے قریب اہلکار ان کی تحویل میں ہیں۔ جھڑپوں کی وجہ سے پانچ ہزار آبادی کے علاقے لوئی سم کے زیادہ تر مکین دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ کئی خاندان گھروں میں محصور ہوگئے تھے۔جمعہ کی شام مارٹر کے ایک گولے میں تیرہ مقامی افراد بھی زخمی ہوئے تھے جن میں چار بچے اور پانچ خواتین بھی شامل تھیں۔ |
اسی بارے میں لوئی سم پر طالبان قبضے کی اطلاعات09 August, 2008 | پاکستان باجوڑ 150 اہلکار ’گھیرےمیں‘08 August, 2008 | پاکستان باجوڑ جھڑپیں، ہلاکتوں کے دعوے07 August, 2008 | پاکستان باجوڑ میں فوجی چوکی خالی28 July, 2008 | پاکستان باجوڑ :سرکردہ قبائلی سردار ہلاک21 July, 2008 | پاکستان باجوڑ: مجمع میں دو ’جاسوس‘ قتل27 June, 2008 | پاکستان باجوڑ: چیک پوسٹوں پر حملے13 May, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||