BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 May, 2008, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ: چیک پوسٹوں پر حملے

ایف سی اہلکار(فائل فوٹو)
سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا۔
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے حملوں میں ایک سکاؤٹس اہلکار ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعات پیر کی رات تحصیل ماموند اور صدر مقام خار میں پیش آئے۔ باجوڑ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے عمرائی، بدان اور راغہ گال کے علاقوں میں قائم سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کئے جس میں ایک سکاؤٹس اہلکار ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی اور حملہ آواروں کے ٹھکانوں کو توپ خانے سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ سکاؤٹس اور مسلح افراد کے درمیان صبح تک علاقے میں فا ئرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

سرکاری اہلکار نے الزام لگایا کہ چیک پوسٹوں پر حملوں میں مقامی طالبان ملوث ہیں۔ تاحال کسی تنظیم نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب پاکستان میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں قائم طالبان کی تنظیم اور حکومت کے مابین ایک بار پھر رابطے بحال ہونے کی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل بھی باجوڑ میں مقامی طالبان نے ایف سی کے چند اہلکاروں کو اغواء کیا تھا تاہم بعد میں ایک جرگہ کے توسط سے کچھ اہلکاروں کو آزاد کرایا گیا تھا۔

باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ دو برس سے امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ علاقے میں سکاؤٹس اور سرکاری چیک پوسٹوں پر حملے اور دن دھاڑے اغواء کی وارداتیں ایک معمول بن چکا ہے۔

مقامی انتظامیہ ان واقعات کی ذمہ داری عسکریت پسندوں پر عائد کرتی رہی ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل نواگئی تحصیل میں سکیورٹی فورسز نے شہری آبادی پر گولہ باری کی تھی جس میں دس کے قریب عام شہری مارے گئے تھے۔ تاہم ملک میں عام انتخابات کے بعد ان واقعات میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد