BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 August, 2008, 08:06 GMT 13:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:خودکش حملہ، ہلاکتیں

اہلکاروں کی لاشیں
پولیس سٹیشن پر حملے کے وقت تھانے کی اندر تیس پولیس اہلکار موجود تھے
صوبۂ سرحد کے ضلع سوات میں حکام نے ایک جھڑپ کے دوران تیس سے زائد طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طالبان نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے بیس اہلکاروں کے ہلاکت کا جوابی دعویٰ کیا ہے۔

سوات میں ایک اور واقعے میں چہار باغ پولیس سٹیشن کو خود کش حملے اور ایک اور پولیس چوکی کو بم سے اڑایا گیا ہے جس میں مجموعی طور پر دو پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔طالبان نےان واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی۔

سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان میجر ناصر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح سکیورٹی فورسز نے کانجو اور تحصیل کبل میں کرفیو نافذ کرکے طالبان کے خلاف بھرپور کاروائی شروع کی ہے۔ انہوں دعوی کیا کہ جھڑپ کے دوران اب تک تیس سے زائد طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

بری کوٹ میں تشدد
 سنیچر کی صبح پولیس کی ایک خالی چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جس کے قریب گزرنے والے دو بچے ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ تحصیل کبل کے ڈیرو کے علاقے میں گھر پر مارٹر گولہ گرنے کے ایک اور واقعہ میں ایک بچہ ہلاک اور چھ دیگر افراد زخمی ہوگئے ہیں

ترجمان نے مزید کہا کہ تحصیل کبل میں ہونے والی کارروائی میں سکیورٹی فورسز کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد حاصل ہے۔ ان کے مطابق تحصیل کبل مبینہ طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں سے وہ ہر قسم کی تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں اور ’اس لیے اس علاقے میں کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

انہوں نے گزشتہ رات تحصیل مٹہ میں طالبان کے ایک ’غیر قانونی‘ ایف ایم اسٹیشن کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس سلسلے میں جب طالبان ترجمان مسلم خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے مارے جانے کی حکومت دعوے کی تردید کرتے ہوئے بیس اہلکاروں کی ہلاکت کا جوابی دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپ میں ان کا محض ایک ساتھی زخمی ہوا ہے۔

دوسری طرف سوات ہی میں پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح بارود سے بھری ایک جیپ میں سوار خودکش حملہ آور نے چہار باغ پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا جس میں ان کے بقول دو اہلکار ہلاک جبکہ نو زخمی ہوگئے ہیں۔

تاہم سیدو شریف ہسپتال کے ایک اہلکار عمر طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں اس واقعے میں ہلاک ہونے والے دو اہلکاروں اور دو شہریوں سمیت چار افراد کی لاشیں اور گیارہ اہلکاروں اور بارہ عام شہریوں سمیت تئیس زخمی لائے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چہار باغ کے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے بشمول سوات میں گزشتہ شب ہونے والے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے سینتیس افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

سوات کے تحصیل بری کوٹ کے علاقے ابوحہ میں بھی پولیس کے مطابق سنیچر کی صبح پولیس کی ایک خالی چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جس کے قریب گزرنے والے دو بچے ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ تحصیل کبل کے ڈیرو کے علاقے میں گھر پر مارٹر گولہ گرنے کے ایک اور واقعہ میں ایک بچہ ہلاک اور چھ دیگر افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

طالبان کے ترجمان مسلم خان نے چہار باغ پولیس سٹیشن پر ہونے والے خود کش حملے اور ابوحہ پولیس چوکی کو بم سے اڑانے کے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صوبائی حکومت ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتی طالبان علاقے میں امن کے قیام کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

ان کے بقول معاہدے کے مطابق حکومت علاقے میں شرعی نظام نافذ کرے اور سوات سے سکیورٹی فورسز کو نکال دے۔ یاد رہے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی نے جمعہ کو کہا تھا کہ حکومت سوات میں طالبان سے کیے گئے معاہدے کی اب بھی پابند ہے۔

اسی بارے میں
سوات:25 طالبان سمیت 30 ہلاک
30 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد