واہ حملے ردِ عمل ہیں: مولوی عمر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مولوی عمر نے کہا کہ واہ کینٹ میں حملے قبائلی علاقوں میں فضائی حملے اور بمباری کا رد عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واہ کینٹ کے حملے خاص طور پر باجوڑ میں بمباری اور عمومی طور پر قبائلی علاقوں میں کارروائیاں کا رد عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ان حملوں میں عام شہری، عورتیں اور بچے ہلاک ہو رہے ہیں اور مسجدیں تباہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سکیورٹی فورسز کے یہ حملے ایک دو روز میں بند نہ ہوئے تو تحریک طالبان پاکستان کے لاہور اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں اس سے بھی بڑے حملے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور سکیورٹی فورسز ان سے لڑنا چاہتی ہیں تو وہ میدانی جنگ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان فضائی حملوں سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ ان کے اہداف مضبوط ہیں اور حکومت ان کو ختم نہیں کر پائے گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کا موقف ہے کہ قبائلی علاقوں میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں تو ان خودکش حملوں میں بھی تو عام شہری ہی متاثر ہو رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ان کو اس بات کا احساس ہے کہ عام لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واہ کینٹ میں ان کا ہدف عام شہری نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تحریکِ طالبانِ پاکستان نے کسی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جمعرات کو واہ کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے تحریکِ طالبان ڈیرہ اسماعیل حان میں ہسپتال کے باہر حملے کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے حملے میں بتیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تحریک نے پاکستا ائر فورس کی گاڑی پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ | اسی بارے میں واہ میں اسلحہ فیکٹری کے قریب دو خودکش حملے: تریسٹھ افراد ہلاک21 August, 2008 | پاکستان واہ فیکٹری: خودکش حملے، چالیس افراد ہلاک، درجنوں زخمی21 August, 2008 | پاکستان مشرف دور، خودکش حملے عروج پر19 August, 2008 | پاکستان خودکش حملے میں اٹھائیس ہلاک19 August, 2008 | پاکستان لاہور: خودکش حملے میں چھ افراد ہلاک13 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں راکٹ حملے05 August, 2008 | پاکستان سوات:بم حملے میں پانچ اہلکار ہلاک02 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||