واہ دھماکے: ستر ہلاکتیں، مقدمہ درج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پینتالیس کلومیٹر دور واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے مرکزی دروازوں پر دو خودکش حملوں میں ستر افراد ہلاک اور اسی زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے دھماکوں کو ذمہ داری قبول کی ہے۔ پولیس نے دو نامعلوم افراد‘ کے خلاف دہشگردی کے الزام میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی اداروں نے ایک بیس سالہ نوجوان کو جائے وقوع کے قریب سےگرفتار کر کے اسے کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا۔ اس مشتبہ شخص کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُس کی عمر بیس سال کے قریب ہے۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے ایک پریس ریلیز کے حوالے سے کہا ہے کہ خود کش حملے میں ستر افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ واہ آرڈیننس فیکٹری پاکستان کی سب سے بڑی اسلحہ فیکٹری ہے جہاں لگ بھگ پچیس ہزار افراد کام کرتے ہیں۔ اُدھر ان خودکش حملوں کی تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور اس کی سربراہی سٹی پولیس افسر راؤ اقبال کریں گے جبکہ اس ٹیم میں ایف ائی اے اور انٹیلجنس ایجنسیوں کے افسران بھی شامل ہیں۔ راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر ناصر خان درانی نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سارے سویلین تھے۔ ان میں کوئی فوجی اہلکار شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملے اُس وقت ہوئے جب شفٹ تبدیل ہو رہی تھی۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق واہ فیکٹری کے گیٹ نمبر ون سے ملحق مسجدِ عثمان کے اندر پولیس کو خود کش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس اور دھماکوں میں استعمال کیا جانے والا سامان بھی ملا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ خود کش حملہ آور حملوں سے قبل اسی مسجد میں تھے اور یہیں سے باہر نکلے۔
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے واہ فیکٹری میں ہونے والے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ناصرخان درانی نے کہا کہ باجوڑ اور دوسرے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی پولیس کو ریڈ الرٹ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس فیکٹری ایک فوجی علاقہ ہے اس لیے وہاں سکیورٹی کے فرائض سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہی انجام دیتےہیں۔ ناصر خان درانی کے مطابق یہ خودکش حملے اُسی نوعیت کے ہیں جس طرح دو روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ہسپتال میں ہوا تھا۔ اس سے قبل واہ کینٹ کے ڈی ایس پی شہباز خان نےہلاکتوں کی تعداد چالیس بتائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں خودکش حملے تھے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ڈی ایس پی شہباز خان کے مطابق پہلا دھماکہ مرکزی گیٹ پر جبکہ دوسرا دھماکہ گیٹ نمبر ایک پر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آوروں نے خود کو اُس وقت دھماکے سے اُڑا دیا جب ملازمین چھٹی کرکے گھروں کے لیے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں کی لاشیں بھی وہاں پر پڑی ہوئی ہیں جو قابل شناخت نہیں ہیں۔ اس فیکٹری میں پاکستانی افواج کے لیے اسلحہ تیار کیا جاتا ہے اور اس علاقے میں سکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے۔ ان خودکش حملوں کے بعد فوجی اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے علاوہ کسی کو بھی جائے حادثہ پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان خود کش حملوں میں زخمیوں میں سے پچیس افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ واہ کینٹ میں واقع پی او ایف ہسپتال کے باہر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے جن کو سکیورٹی نے ہسپتال کے اندر جانے سے روک دیا ہے۔ وہ افراد جن کے عزیز ان خودکش حملوں میں زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں ہسپتال کے باہر غصے کے عالم میں ہیں۔
’ہم لوگ زخمیوں کو منتقل کر رہے تھے لیکن وہ لوگ نہ تو کراہ رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ان کو کچھ محسوس نہیں ہو رہا۔‘ دھماکوں کے ایک عینی شاہد رانا تنویر نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دھماکوں کے فوری بعد وہ جائے وقوع پر پہنچا جہاں اس نے ’ہر طرف خون اور انسانی لاشیں دیکھیں۔مقامی لوگ زخمیوں کو اپنی گاڑیوں میں بٹھاکر ہسپتال لے جارہے تھے۔‘ پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق قائم مقام پاکستانی صدر محمد میاں سومرو نے واہ فیکٹری میں ہونے والے خودکش حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستانی صدر نے اپنے پیغام میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ اس بہیمانہ حملوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ہلاکتوں پر صدمے کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ اس دھماکے کے پیچھے خفیہ ہاتھوں کا پردہ فاش کریں۔ |
اسی بارے میں خودکش حملے میں اٹھائیس ہلاک19 August, 2008 | پاکستان پشاور، باڑہ میں بم دھماکے، 3 ہلاک24 May, 2008 | پاکستان دیر:سکول میں بم دھماکہ عمارت تباہ15 June, 2008 | پاکستان ٹنڈو آدم میں بم دھماکہ: ایک ہلاک15 June, 2008 | پاکستان ’باجوڑ میں بمباری، سات ہلاک‘11 August, 2008 | پاکستان حب میں کار بم دھماکہ13 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||