مشرف دور، خودکش حملے عروج پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں جہاں ایک طرف ان پر یہ تنقید ہوتی رہی کہ ان کے نو سالہ دور حکومت میں فوج اور عوام میں دوریاں پیدا ہوئیں، مہنگائی بڑھ گئی، عدلیہ پر وار ہوئے، وہیں کچھ نقاد یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ان کی شرکت نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیل دیا۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد افغانستان پر حملے سے قبل پرویز مشرف کی پالیسی نے روس کے خلاف ’جہاد‘ کرنے والے کئی عناصر کو مشرف کے خلاف کھڑا کر دیا۔ ایک مرتبہ پھر افغان پالیسی کی وجہ سے ملک بدامنی کا شکار رہا اور خودکش بم حملوں کے نئے رجحان نے جنم لیا ہے۔ اس سے قبل جنرل ضیا الحق کے بارے میں یہ تاثر عام ہوا تھا کہ ان کی افغان پالیسی کی وجہ سے ’کلاشنکوف کلچر‘ نے فروغ پایا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق صدر پرویز مشرف کے اقتدار پر قابض ہونے سے لے کر مستعفی ہونے تک ملک میں بیاسی خودکش بم حملے ہوئے جبکہ بم دھماکوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مشرف کے دور اقتدار میں صرف خودکش بم حملوں میں تیرہ سو سے زائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے۔ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو، غیر ملکی سفارت کار، مذہبی علما، اعلیٰ عہدے دار اور فوجی اور پولیس اہلکار شامل تھے۔ خودکش بم حملوں سے سب سے زیادہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقے متاثر ہوئے جہاں انتیس خودکش بم حملے ہوئے۔ اس کے علاوہ پنجاب میں اکیس، کراچی میں نو، اسلام آباد میں پانچ اور بلوچستان میں تین خودکش حملے کیے گئے ۔ سن دوہزار میں صرف ایک خودکش بم حملہ ہوا جبکہ سن دوہزار سات تک اس کی شدت عروج تک پہنچ گئی اور صرف ایک سال میں چوبیس خودکش حملے ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اعلان نے خود پرویز مشرف کو بھی غیر محفوظ بنادیا اور وہ کئی بار جان لیوا حملوں میں بال بال بچے۔ سن دوہزار دو میں ریفرنڈم کے دوران ان کی کراچی آمد پر بارود سے بھری ایک گاڑی ان کے راستے میں کھڑی کر دی گئی لیکن عین وقت پر سوئچ نے کام نہیں کیا اور صدر مشرف بچ گئے۔ چودہ دسمبر دو ہزار تین کو جب وہ راولپنڈی سے اپنے قافلے کے ہمراہ گزرے ہی تھے تو پیچھے ایک زور دار بم دھماکہ ہوا۔ اسی سال پچیس دسمبر کو جھنڈا چچی کے مقام پر ان پر دو خودکش بمباروں نے حملہ کیا۔ اس حملے میں وہ محفوظ رہے مگر ان کی گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی، اور اس کے شیشوں سے ان کے چہرے پر زخم آئے، جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔ سولہ جولائی دو ہزار چھ کو جب وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جا رہے تھے تو پولیس نے ایک عمارت سے طیارہ شکن اسلحہ برآمد کیا جس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ کچھ عناصر انہیں ٹارگٹ بنانا چاہتے تھے۔ پرویز مشرف نے اپنی تقریر میں کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات سے خودکش بم حملوں کا نیا کلچر شروع ہوگیا تھا۔ انہوں نے کوشش کی کہ اس سے نمٹا جائے جس پر انہوں نے کامیابی بھی حاصل کی۔ ان کی اس دعویٰ کے برعکس حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں مشرف مستعفی، نو سالہ دور کا خاتمہ18 August, 2008 | پاکستان سندھ میں بھی ’گو مشرف گو‘13 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل14 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان سیاہی پر روشن خیالی کا پوڈر17 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||