BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 07:53 GMT 12:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کی مفاہمت کی اپیل
صدر مشرف
صدر مشرف نے کہا تھا کہ وہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ معاشی ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔

صدر پرویز مشرف اپنے خلاف مواخذے کے اعلان کے بعد سے گزشتہ روز پہلی دفعہ کسی اجتماع میں آئے۔

یوم آزادیِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ پروگرام کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اختلافات بھلا دینے چاہیں‘۔

ان کوحکمران اتحادی جماعتوں کی طرف سے بد عنوانی اوراختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

جمعرات کو جشن یوم آزادی کے حوالے سے ٹی وی پر اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’میں ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تمام عناصر سے مفاہمت کی اپیل کرتا ہوں تاکہ ہم ملک کو درپیش اصل مسائل کی جانب توجہ دے سکیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ’اپنی تاریخ کے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے‘۔

’ہمارے مخالفین مختلف سمتوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں اندرونی اور بیرونی عناصر شامل ہیں‘۔

صدر مشرف نے ملک کے دفاع کے حوالے سے کہا کہ ’ہماری افواج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں‘۔

صدر پرویز مشرف نے اپنا یہ خطاب ایسے دن کیا کہ جب ملک کی تین صوبائی اسمبلیوں پنجاب، سرحد اور سندھ نے بھی ان سے اعتماد کا ووٹ لینے یا مستعفی ہونے کی قرارداد منظور کر لی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر کو اب مواخذے سے بچنے کے لیے ایک مشکل جنگ سے گزرنا پڑے گا۔

صدر مشرف کی حمایت یافتہ جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’صدر مشرف کے پاس اب دو راستے ہیں یا تو وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور مواخذے کی تحریک کے خلاف لڑیں اور یا اپنا عہدہ چھوڑ کر گھر جائیں‘۔

’اگر وہ مواخذے کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کی بھر پور حمایت کریں گے اور ہم اسی کو ترجیح دیں گے‘۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج تک کسی پاکستانی لیڈر کا مواخذہ نہیں ہوا لہذاہ اگر یہ مواخذہ ہوتا ہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو گی کیونکہ حکمران اتحادی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مواخذے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد موجود ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صدر مشرف نے کہا تھا کہ وہ مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہونے کو ترجیح دیں گے۔

اگرچہ پاکستان کے صدر کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار موجود ہے تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ اس کو استعمال نہیں کریں گے۔

پرویز الٰہیبھرپور دفاع کا عزم
’پیچھے ہٹنے دیں گے، نہ ہی استعفیْ دینے دیں گے‘
ایس ایم ظفروزرائے قانون کی رائے
’مواخذہ قرارداد عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتی‘
 مشرفالزامات کی تیاری
مشرف مواخذہ: الزامات کی تیاری شروع
صدر کا مواخذہ
’تین سو حامی ہیں مگر ووٹ 315ملیں گے‘
اسی بارے میں
مشرف، چارج شیٹ کی تیاریاں
11 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد