’مواخذہ قرارداد عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکتی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اس وقت یہ بحث عروج پر پہنچ چکی ہے کہ آیا صدر پرویز مشرف مواخذے کے اعلان کے بعد اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اختیار کو استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں جبکہ سابق وزرائے قانون کے دلائل کا عمومی جھکاؤ اس جانب دکھائی دیتا ہے کہ صدر مملکت اپنے مواخذے کی کارروائی عدالت میں چیلنج نہیں کر سکتے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ عام حالات میں پارلیمان میں ہونے والی کارروائی کے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کیا جا سکتا تاہم اگر مواخذے کی کارروائی کے دوران ایسے غیر متعلقہ الزامات عائد کیے جائیں جس کا تعلق مواخذے سے نہ ہو اور آئین کے تحت ان الزامات کی بنیاد پر موخذاہ نہ کیا جا سکتا ہو تو ایسی غیر معمولی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صدر پرویز مشرف مواخذے کے اعلان کے بعد اسمبلی کی تحلیل کا اختیار استعمال کر سکتے ہیں اور اس اختیار کے استعمال میں آئینی اعتبار سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر اسمبلی توڑنے کے اختیار کو کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔ ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ اسمبلی میں پیش ہونے والی قرارداد کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول اسمبلی ہر طرح کی قرارداد منظور کر سکتی ہے تاہم ان قراردادوں کا قانونی اثر نہیں ہوتا۔ سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صدر پرویز مشرف اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار کو استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اختیار کوئی کمزور شخص استعمال نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول صدر مشرف کے پاس اب دو ہی راستے ہیں کہ وہ اپنے خلاف مواخذے کا سامنا کریں یا پھر مستعفیْ ہو جائیں۔ ان کا موقف ہے کہ جب تک صدر مملکت کے خلاف الزامات سامنے نہیں آتے اس وقت وہ عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس شخص کو پارلیمان کا اعتماد حاصل نہ ہو ایسے شخص کی عدالت کس طرح داد رسی کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے عدالتی فیصلے موجود ہیں جہاں مقامی حکومتوں کے نظام میں جب کسی ناظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو عدالت نے داد رسی نہیں کی اس لیے صدر مشرف اپنے خلاف موخذاے کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔ ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں صدر پرویز مشرف کے خلاف جو موخذاے کی کارروائی ہوگی اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا اوراس کارروائی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
سابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ معروضی صورتحال سے ہٹ کر مواخذے کی تحریک پیش کی جائے تو اس کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول صدر کے خلاف مواخذے کا اعلان اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے اس لیے گمان ہے کہ آئین میں دی گئی وجوہات سے ہٹ کر چارج شیٹ پیش کی جائے اور کارروائی عمل میں لائی جاتے تو اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے خلاف مواخذہ صرف ان کی موجودہ معیاد عہدہ کے مطابق کیا جا سکتا ہے اور مواخذے کی کارروائی میں ان کے سابق اقدامات کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے بقول صدر پرویز مشرف مواخذے کے اعلان کے باوجود اسمبلی تحلیل کرنے کا صدراتی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے آئین میں یہ تو درج ہے کہ جب وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے تو وہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی سفارش نہیں کرسکتے تاہم بقول ڈاکٹر خالد رانجھا آئین میں یہ کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ جب صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہو تو وہ اسمبلی تحلیل نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صدر مواخذے کے دوران اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اسمبلی کی تحلیل کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور اس الزام کو ایک جواز کے طور پر اٹھایا جائے گا کہ اسمبلی بدنیتی کی بنیاد پر توڑی گئی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ آئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ صوبائی اسمبلیاں صدر کے خلاف ایسی قرارداد پیش کریں جس میں صدر کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جائے۔ خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کی جانب سے عدالت کے روبرو نئی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کی جس یقین دہانی کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ اس عدالتی فیصلے کا حصہ نہیں ہے جس فیصلے کے تحت صدر مشرف کو انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی تھی۔ سابق وزیر قانون سید اقبال حیدر نے کہا کہ صدر پرویز مشرف مواخذے کے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے کیونکہ مواخذے کی کارروائی پارلیمنٹ میں ہوتی ہے اور اس کارروائی میں عدالت مداخلت کی مجاز نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر صدر مواخذے کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہیں تو یہ اقدام غیر آئینی ہوگا۔ اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی اختیار کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ قانون کا یہ بنیادی اصول ہے کہ اگر کوئی فعل قانون کے مطابق کیا جائے لیکن اس میں بدنیتی شامل ہو تو یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہوگا۔ ان کے بقول صدر پرویز مشرف کے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اگر انہوں نے اسمبلی تحلیل کرنے کی جرات کی یہ اقدام غیر آئینی ہوگا جس کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||