BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی عزت سے نہ گیا!

پرویز مشرف(فائل فوٹو)
صدر مشرف چار وزرائے اعظم سے حلف لے چکے ہیں
محمد علی جناح پاکستان کے واحد سربراہِ مملکت تھے جن کا بطور غیر متنازعہ گورنر جنرل انتقال ہوا۔ ان کے بعد جو بھی گورنر جنرل یا صدر آیا وہ غیر معمولی حالات میں ہی گیا۔ مثلاً گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین محلاتی سازشوں کا شکار ہوگئے۔

ان کے بعد اقتدار پر قابض ہونے والے گورنر جنرل غلام محمد ہاتھ، پاؤں اور زبان سے معذور ہونے کے باوجود سبکدوش ہونے پر آمادہ نہیں تھے۔ چنانچہ ایک دن انہیں دھوکے سے سرکاری گاڑی میں بٹھا کر ان کے گھر پہنچا دیا گیا۔اور ان کی جگہ سکندر مرزا نے اقتدار سنبھال لیا۔

سن انیس سو چھپن کے آئین کے تحت سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر بھی بن گئے۔تاہم انہوں نے دو برس بعد اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لاء لگا دیا۔ لیکن آئین کی پامالی انہیں راس نہ آئی اور صرف بیس روز بعد جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے سکندر مرزا کی کنپٹی پر پستول رکھ کر ان سے استعفی لے لیا اور موصوف کو ایران بجھوا دیا۔جہاں سے وہ لندن چلے گئے۔

پرویز مشرف
 پرویز مشرف جو اس وقت دوسری مدتِ صدارت پوری کر رہے ہیں وہ اب تک چار وزرائے اعظم کو حلف دلا چکے ہیں۔ مگر حالات یہ ہیں کہ خود صدر مشرف اپنی دوسری مدت پوری کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ لگ رہا ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرؤوں کی طرح جلد یا بدیر رخصت کئے جائیں گے
لیکن اس واقعے کے دس برس بعد ایوب خان کے ساتھ بھی کم و بیش یہی ہوا جب پچیس مارچ انیس سو انہتر کو انہی کے کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ خان نے ایوب خان کو استعفی دے کر گھر جانے پر مجبور کردیا۔ تین برس بعد یحییٰ خان جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھی صدارت چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے انہیں جونئیرفوجی افسروں کی بدتمیزی کے بعد نئی سیاسی و فوجی قیادت نے معزول کر کے گھر میں نظربند کر دیا۔

یحییٰ خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر بنے۔ بعد ازاں انیس سو تہتر کے آئین کے تحت انہوں نے وزارتِ عظمی سنبھالی اور فضل الہی چوہدری کو ایک بے دست و پا آئینی صدر بنا دیا۔ بھٹو کو انہی کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے معزول کیا اور دو برس بعد پھانسی دے دی۔ جبکہ ضیا الحق نے فضل الہی چوھدری کو اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ایک حکمنامے کے ذریعے گھر بھجوا کر عہدہ صدارت بھی سنبھال لیا۔

ضیا الحق نے خود کو جائز صدر ثابت کرنے کے لئے انیس سو چوراسی میں ریفرینڈم کا ڈرامہ رچایا لیکن سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو ضیا الحق پراسرار فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے اور ان کی جگہ سینیٹ کے چیرمین غلام اسحاق خان نے سنبھالی۔

غلام اسحق خان
 غلام اسحاق خان نے دو حکومتیں رخصت کردیں۔ لیکن تیسری حکومت رخصت کرنے کے عمل میں فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے وزیرِ اعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کو ایک ساتھ گھر بھجوا دیا۔ان کے بعد وسیم سجاد قائم مقام صدر بنے
غلام اسحاق خان نے دو حکومتیں رخصت کردیں۔ لیکن تیسری حکومت رخصت کرنے کے عمل میں فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے وزیرِ اعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کو ایک ساتھ گھر بھجوا دیا۔ان کے بعد وسیم سجاد قائم مقام صدر بنے۔

جب فاروق لغاری نے باقاعدہ صدر کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو گھر بھیج دیا۔لیکن بے نظیر کے بعد دوبارہ وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف نے عدلیہ کے معاملے پر محاز آرائی کے دوران فاروق لغاری کے لئے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ انہیں بھی اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے استعفی دیتے ہی بنی۔

فاروق لغاری کی جگہ میاں نواز شریف نے اپنے بااعتماد آدمی محمد رفیق تارڑ کو صدر کے عہدے پر فائز کروایا۔ان دونوں کو جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر اینس سو ننانوے کو اقتدار سنبھالنے کے بعد یکے بعد دیگرے چلتا کیا۔

جبکہ پرویز مشرف جو اس وقت دوسری مدتِ صدارت پوری کر رہے ہیں وہ اب تک چار وزرائے اعظم کو حلف دلا چکے ہیں۔ مگر حالات یہ ہیں کہ خود صدر مشرف اپنی دوسری مدت پوری کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ لگ رہا ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرؤوں کی طرح جلد یا بدیر رخصت کئے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد