کوئی عزت سے نہ گیا! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محمد علی جناح پاکستان کے واحد سربراہِ مملکت تھے جن کا بطور غیر متنازعہ گورنر جنرل انتقال ہوا۔ ان کے بعد جو بھی گورنر جنرل یا صدر آیا وہ غیر معمولی حالات میں ہی گیا۔ مثلاً گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین محلاتی سازشوں کا شکار ہوگئے۔ ان کے بعد اقتدار پر قابض ہونے والے گورنر جنرل غلام محمد ہاتھ، پاؤں اور زبان سے معذور ہونے کے باوجود سبکدوش ہونے پر آمادہ نہیں تھے۔ چنانچہ ایک دن انہیں دھوکے سے سرکاری گاڑی میں بٹھا کر ان کے گھر پہنچا دیا گیا۔اور ان کی جگہ سکندر مرزا نے اقتدار سنبھال لیا۔ سن انیس سو چھپن کے آئین کے تحت سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر بھی بن گئے۔تاہم انہوں نے دو برس بعد اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لاء لگا دیا۔ لیکن آئین کی پامالی انہیں راس نہ آئی اور صرف بیس روز بعد جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے سکندر مرزا کی کنپٹی پر پستول رکھ کر ان سے استعفی لے لیا اور موصوف کو ایران بجھوا دیا۔جہاں سے وہ لندن چلے گئے۔
یحییٰ خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے صدر بنے۔ بعد ازاں انیس سو تہتر کے آئین کے تحت انہوں نے وزارتِ عظمی سنبھالی اور فضل الہی چوہدری کو ایک بے دست و پا آئینی صدر بنا دیا۔ بھٹو کو انہی کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے معزول کیا اور دو برس بعد پھانسی دے دی۔ جبکہ ضیا الحق نے فضل الہی چوھدری کو اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ایک حکمنامے کے ذریعے گھر بھجوا کر عہدہ صدارت بھی سنبھال لیا۔ ضیا الحق نے خود کو جائز صدر ثابت کرنے کے لئے انیس سو چوراسی میں ریفرینڈم کا ڈرامہ رچایا لیکن سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو ضیا الحق پراسرار فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے اور ان کی جگہ سینیٹ کے چیرمین غلام اسحاق خان نے سنبھالی۔
جب فاروق لغاری نے باقاعدہ صدر کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو گھر بھیج دیا۔لیکن بے نظیر کے بعد دوبارہ وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف نے عدلیہ کے معاملے پر محاز آرائی کے دوران فاروق لغاری کے لئے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ انہیں بھی اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے استعفی دیتے ہی بنی۔ فاروق لغاری کی جگہ میاں نواز شریف نے اپنے بااعتماد آدمی محمد رفیق تارڑ کو صدر کے عہدے پر فائز کروایا۔ان دونوں کو جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر اینس سو ننانوے کو اقتدار سنبھالنے کے بعد یکے بعد دیگرے چلتا کیا۔ جبکہ پرویز مشرف جو اس وقت دوسری مدتِ صدارت پوری کر رہے ہیں وہ اب تک چار وزرائے اعظم کو حلف دلا چکے ہیں۔ مگر حالات یہ ہیں کہ خود صدر مشرف اپنی دوسری مدت پوری کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ لگ رہا ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرؤوں کی طرح جلد یا بدیر رخصت کئے جائیں گے۔ | اسی بارے میں مواخذے کا’اصولی فیصلہ‘، مسودہ تیار07 August, 2008 | پاکستان مذاکرات ختم، فیصلے کا اعلان آج 06 August, 2008 | پاکستان ’اسمبلی توڑنے کا اختیار ختم کریں‘07 August, 2008 | پاکستان زرداری ہاؤس کے باہر کیا ہوتا رہا؟07 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کا دورہِ چین برقرار06 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||