مذاکرات ختم، فیصلے کا اعلان آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بر سر اقتدار مخلوط حکومت کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان مذاکرات، جن میں صدر پرویز مشرف کے مواخذے پر تبادلہ خیال کیا گیا، رات گئے تک جاری رہے اور اطلاعات کے مطابق آج سہ پہر تک ان مذاکرات کے نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔ اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے اس کی تفصیلات ابھی حاصل نہیں ہوسکی ہیں لیکن پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما خواجہ آصف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر کے مواخذے اور ججز کی بحالی پر دونوں جماعتوں میں مکمل اتفاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو سہ پہر تین بجے تک ’ہم پریس کانفرنس کریں گے اور قوم کو بتا سکیں گے کہ ہمارے درمیان کیا معاہدہ ہوا ہے۔‘ اب سے کچھ دیر قبل پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف زرداری ہاؤس سے نکل کر پنجاب ہاؤس پہنچے جہاں سے اطلاعات کے مطابق وہ وزیرِ اعظم ہاؤس چلے گئے جہاں بات چیت کا سلسلہ رات گئے جاری رہا۔ اس سے قبل وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے آٹھ ججوں کی بحالی کے نوٹیفیکیشن کی خبروں سے بات چیت میں رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ججز کی بحالی کے نوٹیفیکیشن کے بعد کچھ اختلافات ہوئے تھے کیونکہ ہمارے نزدیک اس طرح ججز بحال کرنے کا مطلب صدر مشرف کے ججز کو معطل کرنے کے اقدام کو تسلیم کرنا ہے۔ ’اختلافات کا حل تسلیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہےاور انشا اللہ اس کا کوئی حل نکل آئے گا۔‘ انہوں نے کہا ججوں کی بحالی اعلان مری کے مطابق ہونی چاہیئے اور ان آٹھ ججوں کے ساتھ علیحدہ سلوک نہیں ہونا چاہیئے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد نواز شریف اپنے وفد کے دیگر ارکان کے ساتھ مشورے کے لیے پنجاب ہاؤس چلے گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ وہ واپس آئیں گے۔ فرحت اللہ بابر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اتحادیوں کی میٹنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں بریک آئی ہے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں محمد نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف مشاورت کے لیے علیحدہ ہوئے ہیں جبکہ ان کے باقی ساتھی زرداری ہاؤس میں ہی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادیوں کی میٹنگ دوبارہ اس وقت شروع ہو گی جب نواز شریف اور شہباز شریف مشاورت کے بعد واپس آئیں گے۔ چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے سربراہان آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں چھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد بدھ کو شروع ہونے والی بات چیت میں مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل ہوئے ہیں۔ بدھ کی صبح میاں نواز شریف نے مری میں اپنے ساتھیوں سے مشاورت کی اور دوپہر کو اپنے بھائی شہباز شریف، چودھری نثار علی خان، اسحٰق ڈار اور خواجہ آصف کے ہمراہ زرداری ہاؤس پہنچے۔ حکومت کے حامی فاٹا کے اراکین کا ایک وفد بدھ کی صبح آصف علی زرداری سے ملا اور انہیں حمایت کا یقین دلایا لیکن اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنما افراسیاب خٹک نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کا کوئی نمائندہ بدھ کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ان کے بقول حکومتی اتحاد کے وفد نے ان کی جماعت کے صدر سے کراچی میں گزشتہ رات ملاقات کی تھی اور اسفند یار خان نے انہیں اپنا نکتہ نظر بتادیا ہے۔ بدھ کی بات چیت میں پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کی معاونت سید خورشید علی شاہ، رضا ربانی، شیری رحمان، جہانگیر بدر اور قمر الزمان کائرہ کر رہے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے حکومتی اتحاد کی جانب سے انہیں ہٹائے جانے کے امکان کے بعد اپنا چین کا دورہ اچانک منسوخ کرکے اور ہم خیال سیاسی رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کو مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ نے ان سے ملاقات کی ہے۔ جبکہ کچھ قانونی ماہرین کو بھی ایوان صدر مشورے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں چار اگست کومسلم لیگ کا اجلاس 03 August, 2008 | پاکستان دو ٹوک بات کا وقت آگیا: شریف29 July, 2008 | پاکستان نواز شریف ملک کے مقبول ترین لیڈر17 July, 2008 | پاکستان انتخابی اہلیت کیس کی سماعت ملتوی14 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||