BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 July, 2008, 20:30 GMT 01:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو ٹوک بات کا وقت آگیا: شریف

نواز شریف(فائل فوٹو)
’قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے پارلیمان میں ایک قومی پالیسی بنائی جائے‘
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وقت آچکا ہے کہ عوامی توقعات پوری نہ ہوسکنے پر وہ اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے دوٹوک بات کریں اور حتمی فیصلے کیے جائیں۔

نواز شریف یہ بات لندن سے واپسی کے بعد لاہور کے علامہ اقبال ائر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف تین ہفتے کے دورے کے بعد لندن سے پاکستان واپس پہنچے تو لاہور ائر پورٹ پر مسلم لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا استقبال کیا اور نعرے بازی کی۔

جواب کا انتظار
 میں نے پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف زرداری کو ایک خط بھی لکھا ہے جس کا ابھی تک انہیں کوئی جواب نہیں ملا البتہ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جلد ان کی پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین سے ملاقات ہوجائے گی
نواز شریف
نواز شریف نے کہا کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے جو فیصلہ سنایا تھا اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا مصمم ارادہ ہے کہ وہ اس بارے میں اتحادیوں سے بات کریں گے۔

نواز شریف نے اپنی جماعت کی ورکنگ کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد وہ اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے بات کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے کیوں عوام کے کیے وعدے پورے نہیں کیے؟

نواز شریف نے کہا کہ انہوں پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف زرداری کو ایک خط بھی لکھا ہے جس کا ابھی تک انہیں کوئی جواب نہیں ملا البتہ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ جلد ان کی پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین سے ملاقات ہوجائے گی۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ ججوں کی بحالی، صدر مشرف کے مواخذے، مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے منشور پر قائم ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ عوام نے جن توقعات کو وابستہ کر کے اٹھارہ فروری کو مینڈیٹ دیا تھا وہ پوری نہیں ہوسکیں۔

افسوس کا اظہار
 میں ججوں کی بحالی، صدر مشرف کے مواخذے، مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے منشور پر قائم ہوں تاہم اس بات پر افسوس ہے کہ عوام نے جن توقعات کو وابستہ کر کے اٹھارہ فروری کو مینڈیٹ دیا تھا وہ پوری نہیں ہوسکیں
نوازشریف
نواز شریف نے کہا کہ ججوں کی بحالی تین نومبر دو ہزار سات والی پوزیشن پر کی جائے اور اس بحالی میں کوئی اور ملاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں عدلیہ بحالی کی وکلاء تحریک کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ججوں کی بحالی پاکستان کے مستقبل کی بحالی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کے لیے پارلیمان میں ایک قومی پالیسی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھی پتہ ہونا چاہیے کہ وہ جسے دہشت گردی کی جنگ کہتا ہے اس کے لیے پاکستان میں اب کسی ایک فرد سے بات نہیں ہوسکتی بلکہ اسے سولہ کروڑ عوام کی نمائندہ پارلیمان سے بات کرنا ہوگی۔ نواز شریف نے کہا کہ اگر یہ ہوگا تو پاکستان کی عزت اور توقیر میں بھی اضافہ ہوگا اور انہیں بھی (امریکہ ) کو یہ علم ہوگا کہ پاکستان میں بھی ایک نظام ہے جس کے تحت کام ہوتا ہے، پاکستان میں یہ نہیں کہ ایک شخص سیاہ و سفید کا مالک بن کر جو مرضی وعدے کر دے اور قوم اس کے ساتھ نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد