BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا

لاہور ہائی کورٹ میں تین مختلف رٹ درخواستیں دائر کی گئی ہیں
لاہور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کی ضمنی انتخاب کے لیے اہلیت کے فیصلے اور شہباز شریف کی بلامقابلہ کامیابی کے نوٹیفیکشن کو چیلنج کردیا گیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے اس کیس کی ابتدائی سماعت کے لیے تین رکنی بنچ تشکیل دیدیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں یہ تین مختلف رٹ درخواستیں خرم شاہ اور نورالہی کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

درخواست دہندگان کے وکیل ڈاکٹر ایم محئی الدین قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے الیکشن ٹریبونل اور چیف الیکشن کمیشن کے ان فیصلوں کو چیلنج کیا ہے جن کے تحت نواز شریف اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی کو درست قراردیا گیا تھا۔

نواز شریف نے لاہور کے حلقہ این اے ایک سو تئیس سے جب کہ شہباز شریف نے لاہور کے دوحلقوں سمیت پنجاب بھر سے پانچ حلقوں سے صوبائی نشست کے کاغذات جمع کرائے تھے۔

انتخابی عذرداریاں سننے والے الیکشن ٹریبونل کے دونوں ججوں نے الگ الگ کیسوں میں شریف بردران کی اہلیت کےبارے اختلافی فیصلے دیے تھے۔ ایک جج نے انہیں اہل اور دوسرے نے نااہل قرار دیا تھا۔

چیف الیکشن کمیشن نے فیصلے پر اختلاف رائے کی وجہ سے ریٹرنگ افسر کے شریف بردران کو اہل قرار دینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

ڈاکٹر ایم محئی الدین قاضی نے کہا کہ ان کے موکلین نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیف الیکشن کمیشنر، الیکشن ٹریبونل اور ریٹرنگ افسروں کے فیصلے آئین اور قانون سے متصادم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک الگ رٹ میں کہا گیا ہے کہ جب انہی بنیادوں پر شہبازشریف الیکشن لڑنے کے اہل نہیں رہے تو ان کے پی پی اڑتالیس بھکر سے بلامقابلہ کامیابی کے نوٹیفیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ کے تین ججوں جسٹس فضل میراں چوہان، جسٹس حسنات احمد اور جسٹس محمد احسن بھون پر مشتمل تین رکنی بنچ جمعرات کو اس بات کی سماعت کرے گا کہ یہ رٹ درخواستیں باقاعدہ سماعت کے قابل ہیں یا نہیں۔

ادھر الیکشن کمیشن سے شہباز شریف کی بلامقابلہ کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری ہو جانے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلا لیا گیا ہے۔ یہ اجلاس چھ جون کو ہوگا لیکن اس سے پہلے یعنی جمعرات کی شام مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس بلا لیا گیا ہے۔

اس اجلاس میں مسلم لیگ نون کے صدرشہباز شریف کو وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے اتحادی جماعتوں کا امیدوار نامزد کیا جانا ہے۔

اسمبلی سے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد شہباز شریف کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے روبرو اپنے عہدے کا حلف اٹھانا ہوگا۔ مسلم لیگ نون گورنر پنجاب کے بارے میں کئی بار اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرچکی ہے۔ مسلم لیگی صوبائی وزراء نے گذشتہ مہینے اس تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا جس میں خود سلمان تاثیر نے گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

نواز، شہباز واپسی: لوگ کیا کہتے ہیں؟نواز، شہباز واپسی
گلی، محلوں اور بازاروں میں لوگ کیا کہتے ہیں؟
ایک پوسٹرپہلے شہبازشریف
سپریم کورٹ کا فیصلہ، جاوید سومرو کا تجزیہ
شہباز شریفمعاہدہ سے انکار نہیں
’بندوق کے زور پر کروائی گئی چیز کی کیا حیثیت‘
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد