پیکج: مسودہ نواز شریف کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے معزول ججوں کی بحالی اور آئینی اصلاحات پر مشمل مجوزہ آئینی پیکیج کے مسودے کی منظوری دیدی ہے اور اتحادی جماعتوں سے اس پر رائے لینا شروع کردی ہے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک نے اس سلسلے میں اتوار کو رائے ونڈ پہنچ کر نواز شریف سے ملاقات کی اور مجوزہ آئینی پیکیج کے مسودے کی نقل ان کے حوالے کی۔ اس سے پہلے لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فاروق نائیک نے کہا کہ مسودے کی کاپیاں متحدہ قومی موومینٹ کے قائد الطاف حسین، اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اور جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن کو بھیج دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسودے میں شامل تجاویز حتمی نہیں ہیں بلکہ اس ضمن میں اتحادی جماعتوں کی تجاویز کو بھی سامنے رکھا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مسودے میں سب سے زیادہ آرٹیکل چھ کو بدلنے کی تجویز دی گئی ہے جسکی منظوری کے بعد جو بھی پی سی او کے تحت حلف لے گا وہ جج نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی پیکیج میں صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن لانے کے لئے متعدد تجاویز شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں کے تعاون سے پارلیمینٹ میں آئینی پیکیج منظور کرائے گی۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس پیکیج میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اتحادی جماعتوں کی منظوری کے بعد آئینی پیکج کو پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آئینی پیکیج میں عدلیہ کی بحالی کے علاوہ اعلی عدلیہ کے ججز اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد کوئی بھی آمر آئین معطل نہیں کر سکے گا۔ اور نہ ہی ججز پی سی او کے تحت حلف لے پائیں گے۔ |
اسی بارے میں ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان بحالی قرار داد کے ساتھ آئینی پیکج02 May, 2008 | پاکستان آئینی پیکج، بجٹ اجلاس سے پہلے مشکل20 May, 2008 | پاکستان باسٹھ نکاتی آئینی پیکج تیار: آصف23 May, 2008 | پاکستان آئینی پیکیج پر پی پی پی کا اجلاس24 May, 2008 | پاکستان ’مشرف کو آئینی صدر نہیں مانا‘24 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||