آئینی پیکج، بجٹ اجلاس سے پہلے مشکل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کے تازہ بیان کے مطابق معزول ججوں کی بحالی اور دیگر آئینی ترامیم پر مبنی پیکج قومی اسمبلی بجٹ اجلاس سے قبل منظور ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ اسے کم از کم بجٹ سے پہلے ایوان میں ضرور پیش کر دیا جائے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا: ’جہاں تک ان آئینی ترامیم کی منظوری کی بات ہے تو ان میں وقت لگتا ہے، بحث ہوتی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے یہ پیش ہوجائیں باقی وقت بتائے گا۔‘ مجوزہ آئینی پیکج کے بارے میں دیگر اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے بارے میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ پیکج صرف پیپلز پارٹی کی جانب سے تیار کیا جا رہا ہے۔ ’میں اسے آصف علی زرداری کی رہنمائی میں تیار کر رہا ہوں۔ جب یہ تیار ہو جائے گا تو اسے حتمی منظوری کے لیے کابینہ اور اس کے بعد پارلیمان کے سامنے رکھا جائے گا۔‘ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر اتحادیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) وفاقی کابینہ میں شامل ہیں اور جب کابینہ کے سامنے پیش ہوگا تو ان کی رائے بھی مدنظر رکھی جائے گی۔
فاروق ایچ نائیک نے پیکج کی عمومی معلومات فراہم کیں لیکن اس کی جزیات پر بات کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیکج ابھی مسودے کی صورت میں ہے۔ ان کی وزارت اس مسودے کو حمتی شکل دے رہی ہے۔ ’اس میں کئی ترامیم ہیں۔ آرٹیکل 6 ہے، ججوں کی برطرفی اور ان کی تقرری کے ساتھ ساتھ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری ہے۔ اس ملک کے لیے الیکشن کمشن کی آزادی بہت ضروری ہے تاکہ الیکشن صاف و شفاف ہوں۔‘ اُنہوں نے کہا کہ آئین میں اتنی ترامیم ہوچکی ہیں کہ اس کی اصل صورت بلکل مسخ ہوچکی ہے۔’اس ملک میں پارلیمانی طرز حکومت ہے، صدارتی نہیں اور پارلیمان وزیراعظم کے حکم سے کام کرتی ہے۔ اسی لیے وزیر اعظم اور صدر کے اختیارات میں توازن پیدا کرنا ہے‘۔ ان کا اصرار تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے آئین کا اپنی اصل حالت میں آنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام باتوں اور پرغور ہو رہا ہے۔ جو تبدیلیاں اور رد و بدل لوگ چاہتے ہیں ان کا فیصلہ کابینہ کرے گی اور پھر پارلیمنٹ میں اس بل کو پیش کیا جائے گا جیسے کہ آئین کے آرٹیکل 238 میں موجود ہے‘۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ شخصیات سے متعلق جتنی ترامیم ہیں ان کو ختم کیا جا رہا ہے اور ایسی ترمیم لانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں کوئی بھی آمر آئین کو سبوتاژ نہ کرسکے، اسے معطل نہ کرسکے اور مسخ نہ کرسکے۔ ’ایسا کرنے والے اور اس کی مدد کرنے والے کی وہی سزا تجویز کی گئی ہے جو آئین کے آرٹیکل چھ میں درج ہے‘۔ آئین کے آرٹیکل چھ کے مطابق صرف سزا دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا طریقۂ کار بعد میں تیار کیا جائے گا۔ انیس سو چوہتر میں بغاوت کی سزا کا ایکٹ آیا مگر اس میں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ اس پر کس عدالت میں مقدمہ چلے گا۔ اس کے طریقہ کار کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ ’یہ ایکٹ کافی مبہم ہے۔ ہم اس ایکٹ کو بدلنا چاہتے ہیں۔‘ فاروق ایچ نائیک نے واضح کیا کہ وہ پارلیمان کے ذریعے معزول ججوں کی بحالی چاہتے ہیں لیکن کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گے جس سے تصادم کی فضا پیدا ہو۔ ’ایسا کام کریں گے جو دیرپا ہو اور کسی آنے والے کو ان کی وجہ سے تکلیف نہ اٹھانے پڑے۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں کہ حکومت کابینہ کی منظوری سے قبل اس پیکج پر اتحادیوں سے مشاورت کرے گی یا بعد میں تو ان کا جواب تھا کہ اس بات کا تعین آصف علی زرداری کریں گے۔
وفاقی وزیر سے جو خود بھی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں پوچھا گیا کہ اس پیکج میں صدر کے اسمبلیاں تحلیل کرنے جیسے اختیارات واپس لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے تو کیا انہیں ایوان صدر کی جانب سے مزاحمت کا خدشہ نہیں ہے۔ جواب میں فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ وہ اختیارات کا توازن چاہتے ہیں جو پارلیمانی نظام اور جمہوریت میں ہوتا ہے۔ ’کوئی بھی شق جو پارلیمان کے سر پر تلوار ہو ہر حکومت چاہتی ہے کہ اس کو ختم کیا جائے۔ تاہم اس کے بارے میں حتمی فیصلہ کابینہ اور پھر پارلیمان کرے گی‘۔ انہوں نے اس پیکج کی بابت صدر سے اب تک کسی مشاورت سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کے حکم پر معزول ججوں کی پانچ ماہ کی تنخواہیں ادا کرنے کے فیصلے پر ابھی تک کچھ طے نہیں ہوا ہے اور توقع ہے کہ وزیراعظم کی ملک واپسی پر اس میں کوئی پیش رفت ہو گی۔ حکومت کو وکلاء برادری کی جانب سے دس جون سے لانگ مارچ کی دھمکی کا سامنا ہے جس سے بچنے کی خاطر وہ ترمیمی بل جلد از جلد ایوان میں پیش کرنے کی خواہش مند نظر آتی ہے۔ لیکن ابھی اس پیکج کو پیپلز پارٹی کی حد تک بھی حتمی شکل نہیں دی جاسکی ہے۔ یہ اتحادی کی مشاورت سے پارلیمان کب پہنچے گی کچھ کہنا کافی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||