BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 May, 2008, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دبئی نہیں دباؤ مذاکرات ہیں‘

کامل علی آغا
کامل علی آغا ’میثاق جمہوریت‘ کو مذاق جمہوریت اور ’مری معاہدے‘ کو مرا ہوا معاہدہ کہتے ہیں
عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹ یا ایوان بالا میں نئے رکن حاجی محمد عدیل نے جمعہ کو حلف تو اٹھا لیا لیکن اپنی تعارفی تقریر میں یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ ایوان محض ’ڈیبیٹ سوسائٹی‘ کا کردار ادا کر رہا ہے اور کچھ نہیں۔

صوبہ سرحد کی سیاست میں تو حاجی محمد عدیل اپنی جماعت کے اہم عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ صوبائی وزیر خزانہ جیسے اہم عہدے پر فائز رہے ہیں لیکن اب سینیٹ میں آنے سے انہیں قومی سیاست کا تجربہ بھی حاصل ہو جائے گا۔

پشاور کے ایک معتبر خاندان سے تعلق رکھنے والے حاجی محمد عدیل نے اپنے تقریر میں ایک اور اہم نکتہ بلکہ اپنے صوبے کا کوئی نام نہ ہونے کی شکایت کی۔ اپنا تعارف کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا ایک ایسے صوبے سے تعلق ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے۔ ’شمالی مغربی صوبہ تو تقسیم ہند سے پہلے ایک علاقے کا نام تھا پاکستان بننے کے بعد کا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ تقریر تو پشتو میں کرنا چاہتے ہیں لیکن ایوان کے قوائد اس کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوں نے مرکز سے صوبوں کو مناسب فنڈز نہ ملنے کی بھی شکایت۔ تاہم اب شاید صوبہ اور مرکز میں حکومت کا حصہ ہونے کی وجہ سے انہیں امید ہے کہ یہ سب تبدیل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود اس کے لیے کوشش کریں گے اور سرحد، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مظلوم عوام کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

نفاذِ شریعت
 اگر ملک میں شریعت نافذ ہوجاتی تو ناانصافی کا دور دورہ نہ ہوتا
مولانا عبدالغفور حیدری

ان کے علاوہ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست کھونے والے جعمیت علما اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی بطور رکن حلف اٹھایا۔ انہوں نے اپنی سوچ کے مطابق ان تمام مسائل کا حل شریعت کے نفاذ میں مخفی قرار دیا۔ ’اگر ملک میں شریعت نافذ ہوجاتی تو ناانصافی کا دور دورہ نہ ہوتا۔‘

دونوں نئے اراکین کو مبارک باد دیتے ہوئے قائد ایوان رضا ربانی نے صوبہ پختونخواہ کے حاجی محمد عدیل اور بلوچستان کے مولانا عبدالغفور حیدری کو یقین دلایا کہ صوبے کے نام اور مالی مشکلات سے متعلق شکایات کا وفاقی حکومت ازالہ کرے گی۔

ایوان میں قائد حزب اختلاف کامل علی آغا کی جانب سے اشیاء خوردونوش اور ضروریات زندگی کی کمی اور قیمتوں کے اضافے کے مسئلے پر پیش کردہ تحریک پر بحث ہوئی۔

اپنی تقریر میں انہوں نے سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کی جانب سے قائد حزب اختلاف بنائے جانے کا حق ادا کرتے ہوئے ایک ماہ پرانی حکومت پر بےدریغ تابڑ توڑ حملے کیے اور اسے لوڈشیڈنگ سے لے کر ملک میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

کامل علی آغا نے جوکہ پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں دبئی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات کو ’دباؤ مذاکرات‘ قرار دیا۔ تاہم وہ اس سے قبل ’میثاق جمہوریت‘ کو مذاق جمہوریت اور ’مری معاہدے‘ کو مرا ہوا معاہدہ جیسے نام بھی دے چکے ہیں۔

ان کا ایک نکتہ تاہم وزن رکھتا تھا کہ ہمسایہ ملک بھارت نے ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی بجائے کمی کی ہے تو پھر پاکستان میں حکومت کیوں مسلسل عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تمام تر دباؤ عوام پر ڈال رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ معزول جج بحال ہوں اور پھر ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کریں تاکہ حکومت کی کارروائیوں پر نظر رکھ سکیں۔ ان کا دعوی تھا کہ ججوں کی بابت گنتی ہو یا نہ ہو تاہم مہنگائی کے بعد عوام نے الٹی گنتی شروع کر دی ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے زراعت جیسے اہم شعبوں پر کوئی توجہ نہ دینے کا الزام لگایا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد