’بینظیر قتل کی تحقیقات ہوں گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ میں شامل بعض عناصر کی مہم کے باوجود سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے ضرور کروائے گی۔ یہ بات انہوں نے سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ کے رکن اور سینئر قانون دان ایس ایم ظفر کی جانب سے اقوام متحدہ کو اس قتل کی تحقیقات میں ملوث کرنے کی مخالفت میں کی گئی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق حقائق سے پردہ ہٹ جانے کے خوف سے انکے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کے ذریعے کروائے جانے کے فیصلے کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ لبنان کے رفیق حریری کی طرز پر اس قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ کے کمیشن سے کروائے جانے کی مخالفت میں چلائی گئی اس مہم کا مقصد اس قتل کی سازش میں ملوث ملکی اور غیر ملکی عناصر کو منظر عام پر آنے سے بچانا ہے۔ ایس ایم ظفر نے نکتہ اعتراض پر حریری طرز کے اقوام متحدہ کے مشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیشن کے ملک میں آ کر تحقیقات سے ملکی سالمیت اور دفاع خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی روایات کے مطابق اس قسم کے کمیشن کو ملک میں جا کر کسی بھی شخصیت سے باز پرس کرنے اور کسی بھی جگہ کا دورہ کرنے کا استحقاق حاصل ہوتا ہے۔ ’اس صورت میں غیر ملکیوں کی رسائی پاکستان کے ایٹمی پروگرام، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دیگر اہم اور خفیہ مقامات اور افراد تک رسائی ممکن ہو گی جس سے ملکی سالمیت براہ راست خطرے کا شکار ہو جائے گی۔‘ ایس ایم ظفر نے سبکدوش ہونے والے سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں افراد نے بھی اس قسم کی تحقیقات کے ملک پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے حکومت کو ایسے کسی بھی اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں اقوام متحدہ کو ملوث کرنے سے باز رہے کیوں کہ یہ ملکی مفاد کے بالکل منافی ہے۔ رضا ربانی نے ان نکات کے جواب میں کہا کہ بینظیر قتل ایک بین الاقوامی سازش تھی لیکن اسکا ملک کے ایٹمی پروگرام یا تنصیبات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ایم ظفر اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی تحقیقات رکوانے کے لیے بعض مخصوص حلقوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض پروپیگنڈا ہے کہ بینظیر قتل کی تحقیقات سے ملکی سالمیت یا وقار متاثر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور انکی جماعت بھی اتنے ہی محب وطن ہیں جتنا کہ کوئی اور۔ رضا ربانی نے کہا کہ اس ملک میں ہمیشہ سے سیاسی رہنماؤں کو قتل بھی کیا جاتا رہا ہے اور پھر ان کی تحقیقات بھی نہیں کرنے دی جاتی۔ ’ہم اس روایت کو توڑیں گے اور بینظیر کے قتل کی تحقیقات کروائیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت اور ایٹمی اثاثوں کو اصل خطرہ تو اس وقت ہوا تھا جب پرویز مشرف نے پریس کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے ایٹمی پھیلاؤ کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ جب اس اعلان سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کچھ نقصان نہیں ہوا تو بینظیر قتل کا تو اس سے کوئی واسطہ بھی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ09 April, 2008 | پاکستان گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس08 February, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کے اہم نکات08 February, 2008 | پاکستان ’بین الاقوامی تفتیش ضروری ہے‘24 January, 2008 | پاکستان بینظیرقتل:’القاعدہ، بیت اللہ کا کام‘18 January, 2008 | پاکستان ’بینظیر ورثاء چاہیں تو پوسٹمارٹم ہوگا‘13 January, 2008 | پاکستان ’بدلہ نہیں، حقائق جاننا چاہتے ہیں‘10 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||