سینیٹ: قائدِ حزب اختلاف کے لیے دوڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایوان بالا یا سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے انتخاب کے لیئے سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے درمیان مختلف اراکین کی جانب سے کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے سابق قائد حزب اختلاف سینٹر رضا ربانی کو گزشتہ دنوں وزیراعظم نے ایوانِ بالا میں قائد ایوان مقرر کیا تھا جس کے بعد یہ عہدہ خالی ہوگیا تھا۔ مسلم لیگ (ق) کے قائد ایوان وسیم سجاد نے اس سے قبل سینیٹ میں قائدِ ایوان کے عہدے سے نئی حکومت آنے کے بعد پارلیمانی روایات کو جواز بتا کر استعفی دے دیا تھا۔ مسلم لیگ (ق) کے تین امیدوار اس وقت اس دوڑ میں آگے آگے بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سینیٹ میں جماعت کے چیف وِہپ سینیٹر کامل آغا، وسیم سجاد اور مشاہد حسین کے نام لیئے جا رہے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور سے سینیٹ کے رکن کامل آغا نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس عہدے کے لیئے دوڑ میں شامل ہیں۔ ’اگر میری جماعت مجھے میری کارکردگی کی وجہ سے یہ عہدہ دے گی تو مجھے قابل قبول ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس کا فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سینیٹ کے آئندہ اجلاس سے قبل مسلم لیگ (ق) کو قائد حزب اختلاف کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ اجلاس کب ہوسکتا ہے۔ مشاہد حسین آج کل ملک سے باہر ہیں جبکہ وسیم سجاد سے کوششوں کے باوجود اس بابت رابطہ نہیں ہوسکا۔ مشاہد حسین کے مخالفین ان کے ماضی میں پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیانات کو جواز بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس وجہ سے شاید یہ عہدہ حاصل نہ کر سکیں۔خیال ہے کہ اس عہدے کا فیصلہ مشاہد حسین کی برسلز سے واپسی پر کیا جائے گا۔ سینیٹ میں مسلم لیگ (ق) کو پہلے ہی نیلوفر بختیار کی صورت میں اپنے ہی اراکین کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ نیلوفر بختیار نے پانچ دیگر اراکین کے ہمراہ گزشتہ دنوں ’فارورڈ بلاک‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس اعلان کے بعد سے انہوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ | اسی بارے میں سینیٹ میں قائدِ ایوان مستعفی22 March, 2008 | پاکستان سابق چیئرمین سینیٹ کی مراعات29 February, 2008 | پاکستان چھ ’ہم خیالوں‘ کا فارورڈ بلاک26 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||