شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | اس برس پندرہ مارچ کو اسلام آباد کے ایک اطالوی ریستوراں پر حملہ بھی کیا گیا تھا (فائل فوٹو) |
داخلہ امور کے بارے میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس کو حکم دیا ہے کہ رہائشی سیکٹرز میں قائم اقوام متحدہ اور مختلف سفارتخانوں کو جلد ازجلد ڈپلومیٹک انکلیو میں شفٹ کیا جائے اور وہاں پر سیکیورٹی کے انتظام کو مزید موثر بنایا جائے۔ سنیچر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ امور کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ سمیت وزارت داخلہ کے متعلقہ حکام کے علاوہ چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے قائم مقام آئی جی نے شرکت کی۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کے افسران کو احکامات جاری کیے کہ ارکان پارلینمٹ کی سیکیورٹی کو بڑھانے کے علاوہ پولیس کے گشت میں بھی اضافہ کیا جائے۔ سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں اب بھی دہشت گردی کے خطرات موجود ہیں تاہم وزارت داخلہ نے تمام دستیاب وسائل کو بُروئے کار لاتے ہوئے سیکیورٹی کے انتظامات کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں فنڈز اور نفری کی کمی ہے اس کے علاوہ انفراسٹرکچر میں بھی کچھ خامیاں ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ سینٹر طلحہ نے سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ وہ اس ضمن میں ایک جامع رپورٹ مرتب کریں جو حکومت کو پیش کی جاسکے تاکہ اس حوالے سے فنڈز اور افرادی قوت کو بڑھانے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کی جاسکے۔ سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ جن علاقوں کو حساس قرار دیا گیا تھا وہاں پر پولیس کی نفری میں اضافہ کردیا گیا ہے جو وہاں حالات معمول پر آنے تک وہیں رہے گی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے ڈی پی او گجرات کو ہدایت کی کہ وہ سینیٹر عبدالرزاق کے ڈرائیور کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کریں اور چھ ہفتے میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ کمیٹی کو بھجوا دیں۔ واضح رہے کہ مذکورہ سینیٹر کے ڈرائیور سے گجرات پولیس کے اہلکاروں نے تہتر ہزار روپے چھین لیے تھے اور اسے حبس بےجا میں بھی رکھا تھا۔
|