BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 March, 2008, 11:10 GMT 16:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی ایس پی کو دوبار کیوں نشانہ بنایا گیا؟

ڈی ایس پی جاوید اقبال
جاوید اقبال نے سنہ انیس سو اسی میں بطورسب انسپکٹر پولیس کی ملازمت اختیار کی تھی
پاکستان میں گزشتہ کئی سال کے دوران سیکیورٹی فورسز کے جن سینکڑوں اہلکاروں کو مبینہ خود کش اور بم حملوں کانشانہ بنایا گیا ہے ان میں جمعہ کو ضلع لکی مروت میں مبینہ بم حملہ میں ہلاک ہونے والے ڈی ایس پی جاوید اقبال وہ واحد افسر ہیں جن کے جنازے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

سوات کے رہائشی جاوید اقبال نے سنہ انیس سو اسی میں بطورسب انسپکٹر پولیس کی ملازمت اختیار کی تھی اور ترقی کرتے کرتے وہ اٹھائیس سال میں ڈی ایس پی کے عہدہ تک پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کا زیادہ تر عرصہ مالاکنڈ ڈویژن میں ہی گزرا جبکہ دو ماہ قبل ہی انہیں سوات سے لکی مروت تبدیل کیا گیا تھا۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے پولیس افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً پینتالیس سالہ جاوید اقبال نے مبینہ شدت پسندوں یا کسی جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کوئی ایساخاص آپریشن نہیں کیا ہے جس کے جواب میں انہیں انتہائی حد تک نشانہ بنانے جانے کا کوئی احتمال ہو۔ ان کے بقول انہیں کسی بھی جانب سے کبھی بھی کوئی دھمکی موصول ہوئی تھی۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ایک اچھے انسان تھےگر ’دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ‘ میں نہ صرف ان کی بلکہ جنازے میں شامل ان کے جواں سال بیٹے اور سسر کی بھی جان گئی۔

ایک افسر کا کہنا تھا ’بس دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی کھیل کھیلا جا رہا ہے اور ہم بھی بنا سوچے سمجھے اس میں کود پڑے ہیں۔ ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا ہے۔‘

لکی مروت دھماکہ
ڈی ایس پی جاوید اقبال پولیس کی ایک گاڑی میں ہونے والے دھماکے کا نشانہ بنے تھے
لیکن سوال یہ ہے کہ جاوید اقبال کو مارنے کے بعد ان کے جنازے تک کو کیوں نہیں بخشا گیا۔ ایک پولیس آفسر کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بھی اس کی سمجھ نہیں آتی، ہو سکتا ہے کہ خوف و ہراس پھیلانے کی ایک کوشش ہو حالانکہ جاوید اقبال نے تو ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا کہ ان سے انتقام لینے کی خاطر لاش تک کو نہ بخشا جائے۔‘

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں نے جاوید اقبال کو مارا ہو انہیں معلوم تھا کہ جاوید اقبال کے جنازے کے موقع پر انہیں سلامی دینے کے لیے سکیورٹی فورسز کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہوں گے لہذا ان پر حملہ کر کے سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

جبکہ جنازے کو نشانہ بنانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں شرکت کرنے والے یہ تصور تک نہیں کر سکتے کہ اس مقدس اسلامی عمل کو نشانہ بنایا سکتا ہے لہذا اس میں دھماکہ کرنا قدرے آسان کام ہوگا۔

پاکستان میں گزشتہ کئی سال سے جاری دہشت گردی کی وارداتوں میں مساجد، امام بارگاہوں، مذہبی جلوس، انتخابی اجتماعات، بارات اور عید کی نماز میں شامل شرکاء کو نشانہ بنانے کی فہرست میں اب جنازہ بھی شامل ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں
جنازے پرخودکش حملہ، 35 ہلاک
29 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد