ڈی ایس پی کو دوبار کیوں نشانہ بنایا گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ کئی سال کے دوران سیکیورٹی فورسز کے جن سینکڑوں اہلکاروں کو مبینہ خود کش اور بم حملوں کانشانہ بنایا گیا ہے ان میں جمعہ کو ضلع لکی مروت میں مبینہ بم حملہ میں ہلاک ہونے والے ڈی ایس پی جاوید اقبال وہ واحد افسر ہیں جن کے جنازے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوات کے رہائشی جاوید اقبال نے سنہ انیس سو اسی میں بطورسب انسپکٹر پولیس کی ملازمت اختیار کی تھی اور ترقی کرتے کرتے وہ اٹھائیس سال میں ڈی ایس پی کے عہدہ تک پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کا زیادہ تر عرصہ مالاکنڈ ڈویژن میں ہی گزرا جبکہ دو ماہ قبل ہی انہیں سوات سے لکی مروت تبدیل کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے پولیس افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً پینتالیس سالہ جاوید اقبال نے مبینہ شدت پسندوں یا کسی جرائم پیشہ گروہ کے خلاف کوئی ایساخاص آپریشن نہیں کیا ہے جس کے جواب میں انہیں انتہائی حد تک نشانہ بنانے جانے کا کوئی احتمال ہو۔ ان کے بقول انہیں کسی بھی جانب سے کبھی بھی کوئی دھمکی موصول ہوئی تھی۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ایک اچھے انسان تھےگر ’دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ‘ میں نہ صرف ان کی بلکہ جنازے میں شامل ان کے جواں سال بیٹے اور سسر کی بھی جان گئی۔ ایک افسر کا کہنا تھا ’بس دہشت گردی کے خلاف ایک عالمی کھیل کھیلا جا رہا ہے اور ہم بھی بنا سوچے سمجھے اس میں کود پڑے ہیں۔ ہمیں حوصلہ نہیں ہارنا ہے۔‘
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں نے جاوید اقبال کو مارا ہو انہیں معلوم تھا کہ جاوید اقبال کے جنازے کے موقع پر انہیں سلامی دینے کے لیے سکیورٹی فورسز کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود ہوں گے لہذا ان پر حملہ کر کے سکیورٹی فورسز کو بھاری جانی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ جبکہ جنازے کو نشانہ بنانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں شرکت کرنے والے یہ تصور تک نہیں کر سکتے کہ اس مقدس اسلامی عمل کو نشانہ بنایا سکتا ہے لہذا اس میں دھماکہ کرنا قدرے آسان کام ہوگا۔ پاکستان میں گزشتہ کئی سال سے جاری دہشت گردی کی وارداتوں میں مساجد، امام بارگاہوں، مذہبی جلوس، انتخابی اجتماعات، بارات اور عید کی نماز میں شامل شرکاء کو نشانہ بنانے کی فہرست میں اب جنازہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ | اسی بارے میں لکی مروت میں دھماکہ، تین ہلاک29 February, 2008 | پاکستان جنازے پرخودکش حملہ، 35 ہلاک29 February, 2008 | پاکستان باجوڑ خود کش حملہ، دو ہلاک01 March, 2008 | پاکستان ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3801 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||