’آنکھیں بند کر کے تائید نہیں کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ججوں کی بحالی پر معاہدے پر حکمران اتحاد کی دو چھوٹی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کی تائید آنکھیں بند کر کے نہیں کریں گی۔ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ہی مشاورت ہوئی اور اس معاملے پر دو دیگر چھوٹی جماعتوں سے بظاہر کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کا کہنا ہے کہ چونکہ مری معاہدہ ان دو جماعتوں کے درمیان ہوا ہے لہٰذا یہ مذاکرات ان کی حد تک محدود ہی بہتر ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی آج کل سوئٹزلینڈ کے دورے پر ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان جماعتوں کے رہنماؤں نے اسفندیار سے رابطہ کیا ہو ورنہ پارٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ اے این پی کا معزول ججوں کی بحالی سے متعلق اپنا ایک مؤقف رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ججوں کی بحالی ضروری ہے لیکن انہیں صوبہ سرحد کی عوام نے ووٹ اس مسئلے کی بجائے قیام امن کے لیے دیا ہے۔ اے این پی کے ترجمان اور سابق سینیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ ججوں کا مسئلہ بھی اہم ہے لیکن سب سے اہم پھر آٹا اور بجلی کے بحران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سب آزاد عدلیہ کے حامی ہیں کیونکہ ماضی میں ہر آمر نے اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ اس مؤقف سے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کی سوچ پیپلز پارٹی کی سوچ سے انتہائی قریب ہے تو زاہد خان نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی یا نون لیگ کی بات نہیں ہے۔ ’ہماری اپنی ایک سوچ و فکر ہے کیونکہ ہم آزاد عدلیہ کی بات کرتے ہیں، اداروں کی آزادی کی بات کرتے ہیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اس وقت اس نظریے کے نزدیک ہیں ظاہر ہے کہ ہماری سوچ وہی ہوگی۔ ہماری سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘ 'ہم اس ملک کی عدلیہ کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کے لیے کوئی بھی آئے تو وہ عدلیہ کی آزادی کے اوپر شب خون نہ مارے، پارلیمنٹ پر شب خون نہ مارے کیونکہ ساٹھ سال سے اس قوم کو جو نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا ہے، اب ہم اسی بات پر قائم ہیں کہ آئین کے ذریعے پارلیمنٹ کے بالا دستی ضروری ہے اور اس کے ساتھ عدلیہ اور سارے اداروں کے آزادی ضروری ہے جس میں میڈیا بھی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت آنکھیں بند کر کے فیصلے نہیں کرتی۔ ’اے این پی نے اصول پہ بات کی ہے، بے اصولی ہم نے کبھی نہیں کی ہے۔ نہ ہم کسی بات کی آنکھ بند کر کے حمایت کرتے ہیں نہ مخالفت کرتے ہیں۔‘ دوسری جانب جمیعت علماء اسلام بھی موجودہ اتحاد میں کوئی زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دے رہی۔ دبئی مذاکرات سے وہ بھی لاتعلق ہے۔ چھوٹی موٹی شکایتیں اپنی جگہ لیکن ججوں کے معاملے پر اب تک اعتماد میں نہ لینا کتنا بڑا مسئلہ ہے اس پر جمیعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ تمام اتحادیوں کو شامل مشاورت کیا جاتا۔ ’لیکن اگر یہ فیصلہ ہماری سوچ کے مطابق نہ ہوا تو اسے ہماری تائید بھی حاصل نہیں ہوگی۔‘ بڑی جماعتیں وسعت نظر کے ساتھ اگر دبئی مذاکرات میں چھوٹی جماعتوں کو بھی شریک کر لیتی تو اس پر اتفاق رائے کی راہ میں ایک ساتھ تمام رکاوٹیں دور ہو سکتی تھیں۔ | اسی بارے میں ’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ 28 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحران کے حل کیلیے قرارداد‘27 April, 2008 | پاکستان ’کوئی مائنس ون فارمولا نہیں‘23 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، فیصلہ نہیں ہو سکا21 April, 2008 | پاکستان بحالی کی قرارداد، وکلاء کی ڈیڈلائن 19 April, 2008 | پاکستان آصف زرداری کا وکلاء کو انتباہ 08 April, 2008 | پاکستان ’نہ بحالی نہ صدر کا مواخذہ‘05 April, 2008 | پاکستان ’جسٹس افتخار کو نہیں جانا چاہیے تھا‘01 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||