’جسٹس افتخار کو نہیں جانا چاہیے تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو تعزیت کے لیے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے گھر نہیں جانا چاہیے تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے کیانی ہال میں وکلاء تنظیم ’الفا‘ کے زیراہتمام ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ ’نو مارچ سے جاری عدلیہ کی بحالی کی زبردست تحریک کی موجودگی میں جب منزل چند ہاتھ دور رہ گئی تو بھلا بتائیے کہ افتخار چودھری صاحب کو زرداری صاحب سے تعزیت کے لیے جانے کی کیا ضرورت تھی، یہ تعزیت ایک رقعہ یا خط کے ذریعے بھی ہو سکتی تھی‘۔ جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ وہ اس معاملے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ آئندہ ایسے معاملات پر بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو بحالی کے بعد قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت طے پانے والے معاملات کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے جانچ کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جو معاملات وقوع پذیر ہوئے وہ بڑے افسوسناک ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا کہ ’دنیا کا کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اگر کسی نے غلطی کی ہے تو وہ عدالت میں سامنا کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ’جج، جرنیل الائنس بہت ہی خطرناک چیز ہے کیونکہ بعض ججوں نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا اور جرنیلوں کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی‘۔ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے کہا کہ جب تک نظریہ ضرورت کو دفن نہیں کیا جائے گا اور آزاد عدلیہ قائم نہیں کی جائے گی معاملات یونہی چلتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ سنہ انیس سو ستتر کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس ایک سطر کا اضافہ جسٹس انوارالحق نے اپنے طور پر کیا تھا جس میں جنرل ضیاءالحق کو آئین میں ترمیم کا اختیار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیےضروری ہے کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا انہیں فعال بنایا جائے جبکہ تین تین بار پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ’جن افراد کو تین نومبر کے بعد جج بنایا گیا ان کی کوئی حثیت ہے نہ ہی ان کی تعیناتی کو کالعدم قرار دیے جانے کی ضرورت ہے بلکہ ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ انہیں بس گھر بھیج دیا جائے‘۔ | اسی بارے میں ’مفاہمتی آرڈیننس امتیازی ہے‘26 October, 2007 | پاکستان ’جج،جنرل آئین سے بغاوت کے مرتکب‘19 November, 2007 | پاکستان ’جسٹس افتخار بدستور محصور‘21 November, 2007 | پاکستان جسٹس وجیہہ الدین صوبہ بدر07 December, 2007 | پاکستان ’عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں‘10 December, 2007 | پاکستان اسلام آباد: سینکڑوں وکلاء کا احتجاج09 February, 2008 | پاکستان پاکستان میں وکلاء کا احتجاج جاری13 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||