BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 May, 2008, 18:50 GMT 23:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی: ملا جُلا ردِ عمل

قاضی حسین احمد
قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی کی مجوزہ قرارداد کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے
حکمران اتحاد اور حزب اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں نے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف کے اعلان پر ملے جُلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

حکمران اتحاد میں شامل جماعت جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یہ دو جماعتوں کا فیصلہ ہے جس میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی فیصلہ کرنے سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں یہ اچھی بات ہے کہ یہ معاملہ پارلیمینٹ میں آئے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی جماعت اس قرارداد کی حمایت کرے گی یا نہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’ہم آنکھیں بند کر کے ساتھ نہیں دیں گے کچھ سوچ سمجھ کر ہی ساتھ دیں گے۔ اصولی طور پر ہمیں اختلاف نہیں ہے، ججوں کی بحالی کے مسئلے کو ہم اتنا بڑا مسئلہ بنانا نہیں چاہتے لیکن اس اقدام کے سیاسی، عدالتی اور قانونی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور سیاسی معاملات، سنجیدہ معاملات ہوتے ہیں، ظاہر ہے ہم اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لیں گے‘ ۔

اسی طرح اقتدار میں شریک عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان کا مؤقف بھی مولانا فضل الرحمن سے ملتا جلتا ہے۔ انہوں نے کہا ’نواز شریف نے جو اعلان کیا ہے وہ دو جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت ہوا ہے جس میں ہماری جماعت شامل نہیں ہے‘۔

ہماری جماعت شامل نہیں
 ’نواز شریف نے جو اعلان کیا ہے وہ دو جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت ہوا ہے جس میں ہماری جماعت شامل نہیں ہے
زاہد خان اے این پی

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا اس معاملے پر مؤقف واضح ہے کہ وہ عدلیہ کو مضبوط اور مالی طور پر آزاد بنانا چاہتے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پارلیمینٹ میں یہ قرار داد پیش ہوگی تو پھر ہم دیکھیں گے۔ اگر قرار ہماری سوچ اور فکر کے نزدیک ہو گی تو اس کی حمایت کریں گے اور اگر سوچ اور فکر کے نزدیک نہیں ہوگی تو پھر فیصلہ کریں گے‘۔

جماعت اسلامی اور آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما قاضی حسین احمد نے حکمران اتحاد کے اس اعلان پر یہ کہتے ہوئے تبصرہ کرنے سے معذرت چاہی کہ وہ مجوزہ قرارداد کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔ البتہ ان کا یہ کہنا تھا کہ ’جن لوگوں نے ابن الوقتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف لیا اور اعلی عدالتوں کے ججز بن گئے، وہ تو ضمیر فروش ہیں اور خالص پرویز مشرف کے وفادار لوگ ہیں، انہیں ان کے عہدوں سے برطرف کیا جانا چاہیے اور دو نومبر 2007ء کو جو ججز تھے صرف انہی کو بحال ہونا چاہیے‘۔

قاضی حسین احمد نے بتایاکہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا اجلاس چودہ مئی کو طلب کیا گیا ہے جس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا اور لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

جب تک زرداری مؤقف نہیں دیتے
 ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا جب تک آصف علی زرداری اس معاملے پر اپنا مؤقف نہیں دے دیتے ان کی جماعت کوئی تبصرہ نہیں کرسکتی
حیدر عباس رضوی

قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدر عباس رضوی نے اس اعلان پر یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی کہ جب تک آصف علی زرداری اس معاملے پر اپنا مؤقف نہیں دے دیتے ان کی جماعت کوئی تبصرہ نہیں کرسکتی۔
اسفندیار ولی خاناتحادیوں کا موقف
’آنکھیں بند کر کے تائید نہیں کریں گے‘
’نظریۂ ضرورت‘
ضروری ہوا تو وزیراعظم بنوں گا: آصف زرداری
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
راجہ ظفر الحقتیس دن کی مدت
’ججز تیس دن میں بحال ہو جائیں گے‘
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟ججز کی بحالی
حکم نامہ، قرارداد یا اسمبلی کی تحلیل؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد