ججوں کی بحالی: ملا جُلا ردِ عمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران اتحاد اور حزب اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں نے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں مسلم لیگ نون کے رہنما نواز شریف کے اعلان پر ملے جُلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل جماعت جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یہ دو جماعتوں کا فیصلہ ہے جس میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی فیصلہ کرنے سے پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا تاہم انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں یہ اچھی بات ہے کہ یہ معاملہ پارلیمینٹ میں آئے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی جماعت اس قرارداد کی حمایت کرے گی یا نہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’ہم آنکھیں بند کر کے ساتھ نہیں دیں گے کچھ سوچ سمجھ کر ہی ساتھ دیں گے۔ اصولی طور پر ہمیں اختلاف نہیں ہے، ججوں کی بحالی کے مسئلے کو ہم اتنا بڑا مسئلہ بنانا نہیں چاہتے لیکن اس اقدام کے سیاسی، عدالتی اور قانونی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور سیاسی معاملات، سنجیدہ معاملات ہوتے ہیں، ظاہر ہے ہم اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے لیں گے‘ ۔ اسی طرح اقتدار میں شریک عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان کا مؤقف بھی مولانا فضل الرحمن سے ملتا جلتا ہے۔ انہوں نے کہا ’نواز شریف نے جو اعلان کیا ہے وہ دو جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت ہوا ہے جس میں ہماری جماعت شامل نہیں ہے‘۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا اس معاملے پر مؤقف واضح ہے کہ وہ عدلیہ کو مضبوط اور مالی طور پر آزاد بنانا چاہتے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پارلیمینٹ میں یہ قرار داد پیش ہوگی تو پھر ہم دیکھیں گے۔ اگر قرار ہماری سوچ اور فکر کے نزدیک ہو گی تو اس کی حمایت کریں گے اور اگر سوچ اور فکر کے نزدیک نہیں ہوگی تو پھر فیصلہ کریں گے‘۔ جماعت اسلامی اور آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما قاضی حسین احمد نے حکمران اتحاد کے اس اعلان پر یہ کہتے ہوئے تبصرہ کرنے سے معذرت چاہی کہ وہ مجوزہ قرارداد کا مسودہ دیکھنے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔ البتہ ان کا یہ کہنا تھا کہ ’جن لوگوں نے ابن الوقتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف لیا اور اعلی عدالتوں کے ججز بن گئے، وہ تو ضمیر فروش ہیں اور خالص پرویز مشرف کے وفادار لوگ ہیں، انہیں ان کے عہدوں سے برطرف کیا جانا چاہیے اور دو نومبر 2007ء کو جو ججز تھے صرف انہی کو بحال ہونا چاہیے‘۔ قاضی حسین احمد نے بتایاکہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا اجلاس چودہ مئی کو طلب کیا گیا ہے جس میں اس معاملے پر غور کیا جائے گا اور لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدر عباس رضوی نے اس اعلان پر یہ کہہ کر تبصرہ کرنے سے معذرت کرلی کہ جب تک آصف علی زرداری اس معاملے پر اپنا مؤقف نہیں دے دیتے ان کی جماعت کوئی تبصرہ نہیں کرسکتی۔ |
اسی بارے میں بحالی کی قرار داد کے ساتھ آئینی پیکج02 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، فیصلے کا خیرمقدم02 May, 2008 | پاکستان ’دبئی نہیں دباؤ مذاکرات ہیں‘02 May, 2008 | پاکستان فیصلہ ہم آہنگی سے، ملکی ترقی کے لیے: وزیر قانون02 May, 2008 | پاکستان تمام معزول جج بارہ مئی کو بحال: نواز شریف02 May, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||