تمام معزول جج بارہ مئی کو بحال: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ تین نومبر کو معزول کیے جانے والے تمام جج صاحبان بارہ مئی کو قومی اسمبلی کی ایک قرارداد کے ذریعے بحال ہو جائیں گے۔ لاہور میں مسلم لیگ(ن) کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کو عدلیہ کے بارے میں فیصلوں سے آگاہ کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کے بعد اسی دن ایک نوٹیفِکیشن جاری کیا جائے گا جس کے تحت غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر برطرف کیے گئے تمام جج بحال ہو جائیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ ججوں کی بحالی کی قرارداد کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جس میں اعتزاز احسن، خواجہ حارث، عبدالحفیظ پیرزادہ، سینیٹر رضا ربانی اور جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم شامل ہیں جبکہ وزیرِ قانون اس کمیٹی کے کنوینر ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی آنے والے چند دن میں قرارداد کا مسودہ تیار کر لے گی اور عدم اتفاق کی صورت میں معاملہ واپس اعلی قیادت کے پاس چلا جائے گا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ عدلیہ کے بارے میں تحفظات ہیں لیکن عظیم مقصد کے لیے ہم نے اپنے اتحادیوں کی بات مان لی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈ لاک ضرور آیا مگر اسے بات چیت سے دور کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ’جہاں تک آئینی ترامیم کا تعلق ہے اس کی مختلف نکات تجاویز کا درجہ رکھتے ہیں اور ہماری ٹیمیں اس پیکج پر کام جاری رکھیں گی۔ یہ طے پایا ہے کہ اس معاملے سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات اور اداروں سے بات چیت کی جائے گی اور سب کے لیے قابل قبول حل تلاش کیا جائے گا۔ اور مجھے امید ہے کہ یہ مرحلہ بھی اچھے طریقے سے انجام پا جائے گا‘۔
پاکستانی وکلاء کی معزول ججوں کی بحالی کی تحریک کے اہم رہنما منیر اے ملک نے حکمران اتحاد کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے کہ ججوں کی بحالی کے لیے قرارداد بارہ مئی کو قومی اسمبلی میں پیش کر دی جائے گی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک مثبت قدم ہے جس کا بڑی شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا، ہمیں خوشی ہے کہ دیر آید درست آید‘۔انہوں نے کہا کہ ’ابھی تک قرارداد کا مسودہ ہمارے پاس نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ ججز قرارداد کے ذریعے بحال ہوں گے اور اس کے بعد انتظامی حکم نامہ جاری ہوگا، یہی ہماری جدوجہد کا مقصد تھا‘۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیرِ قانون فاروق ایچ نائک نے دبئی سے پاکستان آمد کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ کے بحران کے حل کے لیے مسلم لیگ(ن) کے سربراہ اور پی پی پی کے شریک چیئرمین نے اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا ہے۔
کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا تھا کہ وزیر قانون نے دبئی سے پاکستان واپسی پر کہا کہ فیصلہ بالکل ہم آہنگی سے، اچھی اور مثبت سوچ کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر لگانے کے لیے کیا گیا ہے۔ وزیر قانون سینیٹر فاروق نائیک نے کہا تھا کہ آئین، قانون اور عوامی خواہشات کو نظر میں رکھتے ہوئے ججوں کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں لوگوں کی خواہشات اور تحفظات کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں غلط تاثر دیا جارہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ججوں کی بحالی نہیں چاہتے ہیں۔ معزول ججوں کی رہائی اور بحالی کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے بھی جانوں کے نذرانے دیے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اتفاق ہونا باقی ہے‘30 April, 2008 | پاکستان دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے01 May, 2008 | پاکستان چہرے پر مایوسی مگر پیشرفت’مثبت‘01 May, 2008 | پاکستان اتفاق ہو گیا، اعلان کل ہوگا: نواز شریف01 May, 2008 | پاکستان ’دبئی فیصلے کا انتظار کریں گے‘30 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||