اتفاق ہو گیا، اعلان کل ہوگا: نواز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان عدالتی بحران کے حل کے لیے دبئی میں دو روزہ بات چیت کے اختتام پر فریقین نے ججوں کی بحالی کے معاملے پر اختلافی امور طے پاجانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائک اور وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک بھی موجود رہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری اور ان کے رفقاء کے درمیان بات چیت میں بہت سے معاملات طے ہوئے ہیں اور اتحاد کی دونوں جماعتوں میں ہم آہنگی ہے۔ ’ججوں کو بحال نہ کرنا تین نومبر کے غیر آئینی اقدام کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے جس کی کوئی بھی جـمہوری جماعت حمایت نہیں کر سکتی‘۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ ’آج بڑے مثبت انداز میں اجلاس میں پیش رفت ہوئی، ہم مطمئن ہیں اور اس پر اعلان مری کے مطابق انشاءاللہ عمل ہوگا‘۔ نواز شریف اپنے رفقاء کے ساتھ مذاکرات کے بعد پاکستان روانہ ہو گئے جبکہ آصف زرداری کی آمد جمعہ کو متوقع ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ’ججوں کی بحالی قرارداد کے ذریعے ہوگی اور اس کی تفصیل سن کر سب خوش ہوں گے‘۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آئینی پیکج کے بارے میں بھی بات ہوئی ہے اور وہ علیحدہ معاملہ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اعلانِ مری کے مطابق تو ججوں کی بحالی کی ڈیڈ لائن تیس اپریل کو ختم ہوگئی اور اب کوئی نئی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے تو میاں نواز شریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کل بات ہوگی۔ انہوں نے آصف علی زرداری اور ان کے رفقاء کی تعریف کی اور کہا انہوں نے کھلے دل سے معاملات کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جب ان سے بات چیت ختم ہونے سے پہلے آصف علی زرداری کے اٹھ کر چلے جانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ’ہم دونوں بھائی ہیں، انہیں خاندانی معاملات کی وجہ سے جلدی گھر جانا پڑا اور بلکہ ہم نے ان سے کہا کہ وہ جلدی چلے جائیں مگر وہ کام مکمل کرنے کے بعد گئے‘۔ ادھر مسلم لیگ نواز لیگ کے سینیئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مئی کے وسط تک ججوں کی بحالی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔‘
جمعرات کو مذاکرات کے لیے روانگی سے قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی سے اتحاد قومی مفاد کے لیے کیا تھا اور اس اتحاد کا مقصد پورا ہونا چاہیے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں وہاں نہیں پہنچنے چاہیے تھے اور ججوں کو اعلانِ مری کے مطابق ہی بحال کیا جانا چاہیے۔ فریقین نے جمعرات کو آخری وقت تک صحافیوں کو یہ نہیں بتایا کہ بات چیت کہاں ہوگی۔ جب میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو لینے کے لیے آصف علی زرداری کی گاڑیاں روانہ ہوئیں تو وہ تین ہوٹلوں سے گزرتے ہوئے اپنی مقررہ جگہ پر پہنچیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور ان کی ٹیم کے اراکین صحافیوں سے بچتے رہے اور کسی بھی معاملے پر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا زور اس بات پر رہا کہ ’بس سب اچھا ہے اور تمام معاملات ٹھیک ہیں‘۔ یاد رہے کہ بدھ کو مذاکرات کے سات گھنٹے پر مشتمل دو طویل دور ہوئے جس کے بعد چوہدری نثار علی خان نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بات چیت میں پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا اور کہا کہ بعض آئینی اور قانونی نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔ |
اسی بارے میں دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے01 May, 2008 | پاکستان ’پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اتفاق ہونا باقی ہے‘30 April, 2008 | پاکستان ’دبئی فیصلے کا انتظار کریں گے‘30 April, 2008 | پاکستان ’حقائق چھپانے کی کوشش‘30 April, 2008 | پاکستان مذاکرات میں’تعطل‘، اب نواز دبئی جائیں گے29 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ 28 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||