BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 May, 2008, 06:29 GMT 11:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اتفاق ہو گیا، اعلان کل ہوگا: نواز شریف

نواز شریف اور زرداری
پی پی پی کے ارکان کا زور اس بات پر رہا کہ ’تمام معاملات ٹھیک ہیں‘
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان عدالتی بحران کے حل کے لیے دبئی میں دو روزہ بات چیت کے اختتام پر فریقین نے ججوں کی بحالی کے معاملے پر اختلافی امور طے پاجانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائک اور وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک بھی موجود رہے۔

پی پی پی کا مؤقف
 ججوں کو بحال نہ کرنا تین نومبر کے غیر آئینی اقدام کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے جس کی کوئی بھی جـمہوری جماعت حمایت نہیں کر سکتی
ترجمان فرحت اللہ بابر
دریں اثناء پی پی پی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جماعت نے اعلانِ مری میں ججوں کو بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ججوں کو بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان اس موضوع پر شدید اختلافات کی باتیں مبالغہ آرائی اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری اور ان کے رفقاء کے درمیان بات چیت میں بہت سے معاملات طے ہوئے ہیں اور اتحاد کی دونوں جماعتوں میں ہم آہنگی ہے۔ ’ججوں کو بحال نہ کرنا تین نومبر کے غیر آئینی اقدام کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے جس کی کوئی بھی جـمہوری جماعت حمایت نہیں کر سکتی‘۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ’آج بڑے مثبت انداز میں اجلاس میں پیش رفت ہوئی، ہم مطمئن ہیں اور اس پر اعلان مری کے مطابق انشاءاللہ عمل ہوگا‘۔ نواز شریف اپنے رفقاء کے ساتھ مذاکرات کے بعد پاکستان روانہ ہو گئے جبکہ آصف زرداری کی آمد جمعہ کو متوقع ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ’ججوں کی بحالی قرارداد کے ذریعے ہوگی اور اس کی تفصیل سن کر سب خوش ہوں گے‘۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آئینی پیکج کے بارے میں بھی بات ہوئی ہے اور وہ علیحدہ معاملہ ہے۔

’ہم بھائی ہیں‘
 ہم دونوں بھائی ہیں، انہیں خاندانی معاملات کی وجہ سے جلدی گھر جانا پڑا اور بلکہ ہم نے ان سے کہا کہ وہ جلدی چلے جائیں کیونکہ وہ کام مکمل کرنے کے بعد گئے
نوازز شریف
سابق وزیراعظم نے مزید تفصیلات جمعہ کو لاہور میں بتانے کا اعلان کیا جہاں ان کے بقول مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اعلانِ مری کے مطابق تو ججوں کی بحالی کی ڈیڈ لائن تیس اپریل کو ختم ہوگئی اور اب کوئی نئی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے تو میاں نواز شریف نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کل بات ہوگی۔

انہوں نے آصف علی زرداری اور ان کے رفقاء کی تعریف کی اور کہا انہوں نے کھلے دل سے معاملات کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

جب ان سے بات چیت ختم ہونے سے پہلے آصف علی زرداری کے اٹھ کر چلے جانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ’ہم دونوں بھائی ہیں، انہیں خاندانی معاملات کی وجہ سے جلدی گھر جانا پڑا اور بلکہ ہم نے ان سے کہا کہ وہ جلدی چلے جائیں مگر وہ کام مکمل کرنے کے بعد گئے‘۔

ادھر مسلم لیگ نواز لیگ کے سینیئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مئی کے وسط تک ججوں کی بحالی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔‘

قومی مفاد
 پیپلز پارٹی سے اتحاد قومی مفاد کے لیے کیا تھا اور اس اتحاد کا مقصد پورا ہونا چاہیے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں وہاں نہیں پہنچنے چاہیے تھے اور ججوں کو اعلانِ مری کے مطابق ہی بحال کیا جانا چاہیے
نواز شریف
قبل ازیں جب آصف علی زرداری گھر کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے ساتھی فاروق نائک اور رحمٰن ملک انہیں گاڑی تک چھوڑنے آئے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا کہ قوم بہت جلد خوشخبری سنے گی۔

جمعرات کو مذاکرات کے لیے روانگی سے قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی سے اتحاد قومی مفاد کے لیے کیا تھا اور اس اتحاد کا مقصد پورا ہونا چاہیے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں وہاں نہیں پہنچنے چاہیے تھے اور ججوں کو اعلانِ مری کے مطابق ہی بحال کیا جانا چاہیے۔

فریقین نے جمعرات کو آخری وقت تک صحافیوں کو یہ نہیں بتایا کہ بات چیت کہاں ہوگی۔ جب میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو لینے کے لیے آصف علی زرداری کی گاڑیاں روانہ ہوئیں تو وہ تین ہوٹلوں سے گزرتے ہوئے اپنی مقررہ جگہ پر پہنچیں۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور ان کی ٹیم کے اراکین صحافیوں سے بچتے رہے اور کسی بھی معاملے پر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا زور اس بات پر رہا کہ ’بس سب اچھا ہے اور تمام معاملات ٹھیک ہیں‘۔

یاد رہے کہ بدھ کو مذاکرات کے سات گھنٹے پر مشتمل دو طویل دور ہوئے جس کے بعد چوہدری نثار علی خان نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بات چیت میں پیش رفت کا دعویٰ کیا تھا اور کہا کہ بعض آئینی اور قانونی نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔

نواز شریفدبئی میں مذاکرات
چہرے پر مایوسی مگر پیش رفت’مثبت‘
وکلاء تحریکچاند دیکھو چاند
کیا کوئی عوامی مسائل کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
اسی بارے میں
’حقائق چھپانے کی کوشش‘
30 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد