BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 May, 2008, 00:26 GMT 05:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصلہ ہم آہنگی سے، ملکی ترقی کے لیے: وزیر قانون

نواز شریف اور آصف زرداری
دبئی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان کئی دور ہوئے
مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے دبئی سے پاکستان واپسی پر کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کو کوئی نہیں روک کرسکتا اور ججوں کی بحالی کسی آئینی پیکج کے ذریعے نہیں بلکہ قرارداد کےذریعے ہوگی۔

پاکستان کے وزیر قانون فاروق ایچ نائک نے دبئی سے واپسی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کے بحران کے حل کے لیے مسلم لیگ(ن) کے سربراہ اور پی پی پی کے شریک چیئرمین نے اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرتے ہوئے آئین، قانون، جن لوگوں کے کچھ تحفظات ہیں ان کی رائے سب کو مد نظر رکھا گیا۔

وکلاء کا لائحہ عمل
 نواز شریف اور آصف زرداری مذاکرات کے فیصلوں کے اعلان کے بعد صورت حال واضح ہوگی اور ان فیصلوں کا جائزہ لے کر وکلاء اپنا آئندہ لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔ ملک بھر کے وکلاء کی نمائندہ تنظم پاکستان بارکونسل کے اجلاس تین مئی کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے جس میں وکلاء اپنی آئندہ کی حکمت علمی کا اعلان کریں گے۔
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود
فاروق نائک نے کہا کہ آصف زرداری سمیت سب نے متفقہ طور پر اس فیصلے کے اعلان کا اختیار میاں نواز شریف کو دیا جو جب چاہیں اس کو منظر عام پر لا سکتے ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ فیصلہ بالکل ہم آہنگی سے، اچھی اور مثبت سوچ کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر لگانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرداری ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایک دو روز میں پاکستان پہنچیں گے۔

نواز شریف پیپلزپارٹی کے شریک آصف علی زرداری کے ساتھ عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر مذاکرات کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اپنی مذاکراتی ٹیم کے ہمراہ پاکستان واپس پہنچے تھے۔

مسلم لیگ نواز کے وفاقی و صوبائی وزراء، ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے نواز شریف کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ نون کے کارکنوں نے گو مشرف گو اور عدلیہ کو بحال کرو کے نعرے بھی لگائے۔

خیال رہے کہ نواز شریف نے مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعہ کے روز طلب کرلیا ہے جس میں مسلم لیگ ن کے قائد پیپلز پارٹی سے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اجلاس کے شرکا کو اعتماد میں لیا جائے گا اور اس اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں نواز شریف دبئی مذاکرات میں ہونے والے فیصلوں کا اعلان کریں گے۔

نواز شریف نے لاہور کے ہوائی اڈے پر اپنی گفتگو میں کہا کہ جمعرات کو ہونے والے مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے بقول مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اعلان مری کے مطابق ججوں کو دو نومبر والی پوزیشن پر بحال کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ججوں کی بحالی کو کوئی نہیں روک سکتا اور جج عزت اور وقار کے ساتھ اپنی عدالتوں میں واپس جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے کیا گیا وعدہ آج وفا ہورہا ہے اور ججوں کی بحالی قرارداد کے ذریعے ہوگی جبکہ اعلان مری پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔

نواز شریف نے چیف جسٹس پاکستان کی عہدے کی معیاد مقرر کرنے کے سوال کا جواب نہیں دیا اور کہاکہ ’میں کچھ نہیں کہہ سکتا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون نے یہ سب کچھ ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ قومی مفاد میں کیا ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے پوری کوشش کی ہے اور آخری حد تک جاکر اپنا فرض اد کیا ہے۔

ان کے بقول قومی مفاد کے تحت مسلم لیگ نون اپنے امیدوار سے عدلیہ کی بحالی کا حلف لیا اور قومی مفاد میں ہی پیپلز پارٹی سے بات کرکے انہیں ججوں کی بحالی پر راضی کیا ہے۔

نواز شریف سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ کونسے نکات تھے جو ڈیڈ لاک کا باعث بنے تو انہوں نے کہا کہ جمعہ کو مسلم لیگ نون کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کچھ باتیں بتائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے ججوں کو ان کےعہدوں سے ہٹاکر بڑا ظلم کیا ہے کہ لیکن اب اس ظلم کا ازالہ کیا جارہا ہے جو پاکستان میں ایک انقلابی قدم ہوگا۔

دوسری جانب ملک بھر کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم پاکستان بارکونسل کے اجلاس تین مئی کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے جس میں وکلاء اپنی آئندہ کی حکمت علمی کا اعلان کریں گے۔

وکلاء رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری مذاکرات کے فیصلوں کے اعلان کے بعد صورت حال واضح ہوگی اور ان فیصلوں کا جائزہ لے کر وکلاء اپنا آئندہ لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد