BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 May, 2008, 17:11 GMT 22:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحالی قرار داد کے ساتھ آئینی پیکج

فاروق ایچ نائیک
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے ساتھ
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بارہ مئی کو قومی اسمبلی میں ججوں کی بحالی کی قرارداد لائی جا رہی ہے تاہم جمعہ کی شب ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرارداد کے ساتھ ہی ایک آئینی پیکج بھی لایا جائےگا جس میں عدالتی اصلاحات سمیت بہت سی اور چیزیں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئینی پیکج پر آصف زرداری اور نواز شریف مل کر روشنی ڈالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے میں جو تاخیر ہو رہی ہے اس کا مقصد اتفاق رائے سے اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔ ان کے مطابق ’تاخیر ملک کی سالمیت اور بقاء کے لیے ہو رہی ہے تاکہ اس ملک میں پھر آمریت نہ آئے، ایک صحیح و آزاد عدلیہ آئے، تاخیر اس لیے نہیں ہو رہی کہ کسی کی نیت نہیں ہے۔ سب کی نیت ہے، سب یہی چاہتے ہیں کہ ججز بحال ہوں مگر ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ کوئی تصادم نہ ہو اور سب مل جل کر اس مسئلے کو حل کرلیں‘۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد پیش کرنے سے پہلے حکمران اتحاد میں شامل دوسری جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ سے بھی بات کی جائے گی اور انہیں بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

ادھر پاکستان بار کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ وکلاء ججز کی بحالی کے معاملے میں ’انتظار کریں اور دیکھیں‘ کی پالیسی اپنائیں گے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے بار کونسل کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکمران اتحاد کی جانب سے آئینی پیکج کے ذریعے ججز کی مدت ملازمت کم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔

وکلاء تحریک کے رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بتایا کہ ہفتہ کو وکلاء ایکشن کمیٹی کا ایک اجلاس بلایا گیا ہے جس میں اس بات پر غور ہوگا کہ اگر اعلی عدالتوں کے موجودہ ججوں کو برقرار رکھا جاتا ہے تو کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔

اسفندیار ولی خاناتحادیوں کا موقف
’آنکھیں بند کر کے تائید نہیں کریں گے‘
’نظریۂ ضرورت‘
ضروری ہوا تو وزیراعظم بنوں گا: آصف زرداری
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
راجہ ظفر الحقتیس دن کی مدت
’ججز تیس دن میں بحال ہو جائیں گے‘
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟ججز کی بحالی
حکم نامہ، قرارداد یا اسمبلی کی تحلیل؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد