’مشرف کو آئینی صدر نہیں مانا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر پرویز مشرف کو کبھی آئینی صدر تسلیم نہیں کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ صدر خود چلے جائیں بجائے اس کے کہ ان کا احتساب ہو۔ یہ بات انہوں نے سنیچر کو پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ اور وزراء کے اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ آئینی پیکیج پر تمام سیاسی جماعتوں سمیت ایوان صدر سے بھی بات چیت کریں گے کیونکہ ان کے بقول ڈائیلاگ ہی سیاستدان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ ’شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت سے نوے ہزار پاکستانی فوجی چھڑوائے اور ہزاروں مربع میل زمین واپس لی۔ بینظیر بھٹو شہید نے صدر پرویز مشرف سے فوجی وردی اتروائی۔ یہ سب ڈائیلاگ سے ہوا۔‘ ان سے جب پوچھا گیا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کروانے پر انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کو اعتراضات ہیں تو انہوں نے ایک پوسٹر دکھایا جس پر جیل کے دوران ان پر مبینہ تشدد کے نشانات تھے۔
’یہ سوجا ہوا منہ میرا ہے، یہ کٹی ہوئی زبان اور یہ کٹی ہوئی گردن میری ہے۔ جب میں نے ان حالات میں آئی ایس آئی کی نہیں مانی تو آپ کیوں سوچتے ہیں کہ میں کسی اور پوزیشن میں بیٹھ کر آئی ایس آئی کی مانوں گا۔۔آئی ایس آئی کے ساتھ جو اجلاس ہوا تھا ۔ آئی ایس آئی حکومت کے ماتحت ہے۔ ہوسکتا کہ ایک سو دس فیصد نہ سہی۔ میں اس کی گارنٹی نہیں دے سکتا لیکن آئین کے تحت وہ ہماری حکومت کے ماتحت ہے۔ وہ چالیں تو بہت چل سکتے ہیں لیکن مجھے یہ نہیں بتاسکتے کہ میں نے کیا کرنا ہے۔‘ اس موقع پر وزیر قانون فاروق نائیک نے آئینی پیکیج کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آئینی پیکیج کی پہلی ترمیم صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے پشتونخواہ رکھنا ہے۔ ان کے مطابق فوجی سربراہان، گورنرز اور ججوں سمیت آئینی عہدوں پر تعیناتی کا اختیار صدر سے لے کر وزیر اعظم کو دینا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اسمبلی توڑنے کا صدر کا اختیار بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر قانون نے بتایا کہ ایوان بالا سینٹ میں اقلیتوں کو نمائندگی دینا چاہتے ہیں اور وفاق اور چاروں صوبوں سے ایک ایک اقلیت کا نمائندہ سینیٹ میں ہوگا، فوج اور عدلیہ پر تنقید کی بنا پر قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی کی شق ختم کرنے اور مشترکہ مفادات کی کونسل کو فعال بنانے کی شقیں بھی آئینی پیکیج میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف نے سرکاری ملازم ہوتے ہوئے صدر کے عہدے پر رہنے کی جو شق شامل کی ہے وہ ختم کرنا چاہتے ہیں، دو بار سے زیادہ کوئی صدر کے عہدے پر نہیں رہ سکے گا، قومی اقتصادی کونسل اور قومی مالیاتی کمیشن کی شقوں میں بھی ترمیم کرنا چاہتے ہیں اور صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیار دینا چاہتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے بتایا کہ میاں نواز شریف سمیت اتحادی سیاسی جماعتوں کے سربراہان، مسلم لیگ (ق) سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے وزیر قانون ملاقاتیں شروع کرنے والے ہیں تاکہ انہیں آئینی پیکیج پر اعتماد میں لیا جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وکلا کے نمائندوں سے وہ خود بات کریں گے اور اعتزاز احسن طے کر کے گئے ہیں کہ وہ جلد ان سے ملاقات کریں گے اور ججوں کی بحالی سمیت تمام مسائل حل کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کی کہ چیف جسٹس کے عہدے کی مدت تین سال کرنے کے بارے میں آئینی پیکیج میں کوئی شق شامل نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا وہ دنیا بھر کے ممالک کے نمائندوں اور یورپی یونین سمیت دیگر تنظیموں سے ملیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ پاکستان کو مکمل جمہوریت چاہیے اور پاکستان میں جمہوریت اور آمریت اب ساتھ نہیں چل سکتیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ انتقام کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے پریانکا گاندھی کی مثال دی اور کہا کہ ’تیس سال بعد وہ جیل گئیں اور اپنے والد کے قاتل سے ملیں، ہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہیے اور بلاول بھٹو زرداری نے جو اپنی والدہ کے قتل پر کہا تھا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے، یہ بات ان کی والدہ نے ان کے لاشعور میں ڈالی تھی۔‘ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں وفاقی وزراء، سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ، چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کے وزراء بھی خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ مخدوم امین فہیم اور اعتزاز احسن بھی آصف علی زرداری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے اور اعتزاز کی شرکت کی وجہ سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا فیصل آباد جانے والا قافلہ تین گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||