BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 May, 2008, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایوان صدر سے تصادم کے راستے پر؟

آصف علی زرداری صدر مشرف نے نجات چاہتے ہیں؟
حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ایوان صدر، آرمی چیف اور امریکی اہلکاروں کے حالیہ بیانات کو بعض تجزیہ کار ملک میں ایک نئے سیاسی تنازعہ کھڑے ہونے سے تعبیر کرتے ہوئے ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

آصف علی زرداری کے بارے میں عام تاثر تھا کہ وہ مصالحت کے نام پر صدر پرویز مشرف کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں اور ججوں کی بحالی کے معاملے پر آئینی پیکیج لانے کی بات کر کے صدر مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو قانونی حیثیت دینا چاہتے ہیں۔

لیکن آصف علی زرداری کے بھارت کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو دیے گئے انٹرویو کے بعد یہ تاثر الٹا ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف ’ریلک آف دی پاسٹ‘ یا ماضی کی باقیات بن چکے ہیں اور انہیں ہٹانے کے لیےحکومت پر عوام کا دباؤ ہے اور حکومت عوامی خواہشات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کے مطابق عوام کو آٹے اور بجلی سے بھی زیادہ فکر صدر مشرف سے نجات حاصل کرنے کی ہے۔

آصف علی زرداری کے اس انٹرویو سے پہلے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ فوج عوام کی مدد سے بیرونی اور اندرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ایوان صدر میں مسلم لیگ (ق) کی صدر پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد یہ بیان کیا گیا کہ صدر نے کہا ہے کہ انہیں آصف علی زرداری پر بھروسہ نہیں ہے۔ مقامی میڈیا میں ایوان صدر سے منسوب اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر آئینی پیکیج کے ذریعے صدر کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی تو صدر اُسے روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔

 آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف ریلک آف دی پاسٹ یعنی ماضی کی باقیات بن چکے ہیں اور انہیں ہٹانے کے لیے عوام کا حکومت پر دباؤ ہے اور حکومت عوامی خواہشات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کے مطابق عوام کو آٹے اور بجلی سے بھی زیادہ فکر صدر مشرف سے نجات حاصل کرنے کی ہے۔
اس کے اگلے روز یعنی جمعرات کو پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نےاس طرح کی خبروں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری عوام کے اعتماد پر یقین اور اُسے برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور انہیں کسی فرد کے اعتماد کی ضرورت نہیں۔‘

فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہماری جماعت ایوان صدر اور پارلیمان کے درمیان اختیارات کے عدم توازن کو میثاق جمہوریت اور دنیا کے جمہوری اصولوں کے مطابق ٹھیک کرنا چاہتی ہے اور ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ کون اس سے خوش ہوتا ہے اور کون نا خوش۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تاریخ کا سبق ہے کہ جب بھی کسی آمر نے دھوکہ دہی، چال بازی اور طاقت کی بنا پر اختیارات حاصل کیے ہیں تو جمہوری قوتوں کے آنے کے بعد انہیں ختم کیا گیا ہے۔ ’بھٹو خاندان کی شہید ہونے والی دو نسلوں نے اپنی جماعت کو یہی سکھایا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ غریب عوام ہیں نہ کہ کوئی بندوق بردار آمر۔‘

فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ ’جب تک پیپلز پارٹی کو عوام کا اعتماد حاصل ہے جیسا کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات سے بھی عیاں ہے ایسے میں مشرف پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری پر بھروسہ کریں یا نہ، یہ بیکار بات ہے۔‘

پاکستان کے اندر فی الوقت اقتدار کے منبعوں کے اس طرح کے بیانات کے ساتھ ساتھ امریکہ کے جنوبی ایشیا کے بارے میں نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے نے ایک بیان میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہونے کا بیان دیا ہے۔

مشرف کے سامنے دو راستے: استعفیٰ یا پارلیمان کی تحلیل
باوجود اس کے کہ امریکی اہلکار کا یہ بیان پاکستان حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں ہے لیکن امریکہ کی اس طرح کی سوچ کو پاکستان کے اندرونی معاملات سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ صدر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کے حامی رہے ہیں۔

تاحال صدر پرویز مشرف کا براہ راست کوئی تبصرہ نہیں آیا لیکن ان کے ترجمان راشد قریشی نے چند روز قبل واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ جب صدر کو سویلین استحکام کا یقین ہوجائے گا تو وہ کسی مناسب وقت پر خدا حافظ کہہ سکتے ہیں۔

راشد قریشی کے خیالات اپنی جگہ لیکن آصف علی زرداری کے بیان اور ایوان صدر سے منسوب بیانات (جن کی تردید نہیں کی گئی) ان سے ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت کے سربراہ اور صدر پرویز مشرف کے درمیاں جہاں اعتماد کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے وہاں تعلقات بھی حد سے زیادہ کشیدہ ہوگئے ہیں۔

ایسے میں صدر مشرف کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں کہ وہ اسمبلی توڑ دیں یا پھر مستعفی ہوجائیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بھارتی خبر رساں ادارے کے ساتھ انٹرویو میں آصف علی زرداری نے ایک سوال پر کہا ہے کہ ’کسے معلوم کہ کون جاتا ہے، صدر پرویز مشرف، میں یا پھر ہماری حکومت۔‘

’نظریۂ ضرورت‘
ضروری ہوا تو وزیراعظم بنوں گا: آصف زرداری
نواز ججوں کی بحالی
لندن میں نواز زرداری مذاکرات کا دور
بش گیلانیبش گیلانی ملاقات
جارج بش اور یوسف رضا گیلانی کی پہلی ملاقات
 جنرل کیانیچیف کی بریفنگ
وزیراعظم کو جنرل کیانی کی پہلی بریفنگ
نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد