ججز بحالی: آئینی تصادم کی جانب؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی نئی اتحادی حکومت کے معزول ججز کی بحالی کے فیصلے پر جہاں ایک طرف گرمجوشی کی فضا ہے وہیں دوسری جانب خدشات بھی ہیں۔ گرمجوشی اس لیے کہ یہ امید حقیقت بنتی نظر آرہی ہے کہ بارہ مئی کو معزول ججز اپنے عہدے سنبھال لیں گے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ خدشہ بھی ہے کہ حکمراں اتحاد اور صدر مشرف کے درمیان تصادم شروع ہوسکتا ہے جن کے پاس حکومت کو برخاست کرنے کا حق ہے۔ جہاں تک ججز کی بحالی کا سوال ہے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شرف کو یقین ہے کہ بارہ مئی کو ایسا ہوجائے گا۔ نواز شریف نے جمعہ کے روز اخبارنویسوں کو بتایا: ’پارلیمان میں ایک قرارداد لائی جائے گی جس کی بنیاد پر اسی روز ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا جائے گا، اور انشاء اللہ، مشرف کے ہاتھوں معزول ہونے والے ججز بحال ہوجائیں گے۔‘ لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ سابق وزیر اطلاعات اور صدر مشرف کے حامی شیخ رشید احمد نے کہا ہے: ’عوام ججز کی صرف بحالی نہیں، فعالی چاہتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’یہ بارہ مئی کو ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔‘ مبصرین کے خیال میں معزول ججز کی بحالی سے متاثر ہونے والے ججز کا موقف بھی یہی ہوگا۔ اس سے ان سارے معاملات پر عدالتی کارروائیوں کا ایک سیلاب شروع ہوجائے گا جو تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ سے اب تک طے پائے ہیں۔ لیکن اگر موجود ججز حکمراں اتحاد کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے شکست تسلیم کرلیں تب بھی کئی قانونی پیچیدگیاں جواب طلب ہیں۔ نواز شرف نے اعتراف کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دباؤ میں وہ اس بات پر متفق ہیں کہ معزول ججز کی جگہ لینے والے موجودہ ججز کو نہیں ہٹایا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت میں ججز کی تعداد بڑھ جائے گی جس کی بعض ماہرین کی نظر میں آئین میں اجازت نہیں۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اور پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق نائک کی سربراہی میں قانونی ماہرین کی ایک کمیٹی قانونی پیچیدگیوں کے حل پر غور کرے گی۔ اس پر فاروق نائک نے ٹی وی چینلز کو بتایا کہ اس عمل میں وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم کوشش کریں گے کہ یہ کام جتنا جلد ممکن ہو مکمل ہوجائے۔ لیکن اس میں کوئی برائی نہیں کہ ججز کی (حقیقی) بحالی بارہ مئی کے بعد ہو پائے۔‘ صدر مشرف کو خدشہ ہے کہ ججز کی بحالی کا سیاسی عمل پارلیمان میں ان کے مواخذے تک جاسکتا ہے۔ حال میں بعض مبصرین اور سیاست دانوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف معزول ججز کی بحالی کے اقدام کے خلاف کوئی قدم اٹھاسکتے ہیں۔ کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر مشرف نے پیپلز پارٹی کو ڈھکی چھپی وارننگ دی ہے کہ اگر حالات خراب ہوئے تو وہ پارلیمان کو برخواست کرسکتے ہیں۔ لیکن اب جب کہ حکمراں اتحاد نے ججز کی بحالی کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے، کیا صدر مشرف اپنے پتے کھیلیں گے؟ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید وہ ڈگمگا جائیں۔ ماضی قریب میں صدر کی اختلافی سیاست سے ملک عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور اس سے گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی اقتصادی ترقی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس وجہ سے آج وہ پاکستان میں سب سے غیرمقبول رہنما بن گئے ہیں۔ بعض مبصرین کی نظر میں فوج صدر مشرف کی وقت پر مدد کرسکتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج نے حال میں خود کو سیاست سے الگ رکھا ہے۔ اور سیاسی سطح پر نئی حکومت، ججز اور سِول سوسائٹی سب ہی صدر مشرف کے خلاف صف آراء ہیں۔ ان حالات میں صدر مشرف کے پاس صرف دس ہیں کہ وہ خود کو اس بھنور سے نکال لیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||