BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 May, 2008, 09:27 GMT 14:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججز بحالی: آئینی تصادم کی جانب؟

اس تنازعے کا حکمراں اتحاد پر بھی اثر پڑ سکتا ہے
پاکستان کی نئی اتحادی حکومت کے معزول ججز کی بحالی کے فیصلے پر جہاں ایک طرف گرمجوشی کی فضا ہے وہیں دوسری جانب خدشات بھی ہیں۔

گرمجوشی اس لیے کہ یہ امید حقیقت بنتی نظر آرہی ہے کہ بارہ مئی کو معزول ججز اپنے عہدے سنبھال لیں گے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ خدشہ بھی ہے کہ حکمراں اتحاد اور صدر مشرف کے درمیان تصادم شروع ہوسکتا ہے جن کے پاس حکومت کو برخاست کرنے کا حق ہے۔

جہاں تک ججز کی بحالی کا سوال ہے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شرف کو یقین ہے کہ بارہ مئی کو ایسا ہوجائے گا۔

نواز شریف نے جمعہ کے روز اخبارنویسوں کو بتایا: ’پارلیمان میں ایک قرارداد لائی جائے گی جس کی بنیاد پر اسی روز ایک سرکاری حکم نامہ جاری کیا جائے گا، اور انشاء اللہ، مشرف کے ہاتھوں معزول ہونے والے ججز بحال ہوجائیں گے۔‘

لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ سابق وزیر اطلاعات اور صدر مشرف کے حامی شیخ رشید احمد نے کہا ہے: ’عوام ججز کی صرف بحالی نہیں، فعالی چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ بارہ مئی کو ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔‘

 مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر ایسے اقدام پر اس لیے روک لگاسکتے ہیں کیونکہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی سے نقصان ان ہی کو ہوگا۔
شیخ رشید احمد کے خیالات معنی خیز اس لیے ہیں کہ بعض لوگوں کی رائے میں عدالت ایسے اقدام پر روک لگا سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر ایسے اقدام پر اس لیے روک لگاسکتے ہیں کیونکہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی سے نقصان ان ہی کو ہوگا۔

مبصرین کے خیال میں معزول ججز کی بحالی سے متاثر ہونے والے ججز کا موقف بھی یہی ہوگا۔

اس سے ان سارے معاملات پر عدالتی کارروائیوں کا ایک سیلاب شروع ہوجائے گا جو تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ سے اب تک طے پائے ہیں۔

لیکن اگر موجود ججز حکمراں اتحاد کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے شکست تسلیم کرلیں تب بھی کئی قانونی پیچیدگیاں جواب طلب ہیں۔

نواز شرف نے اعتراف کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دباؤ میں وہ اس بات پر متفق ہیں کہ معزول ججز کی جگہ لینے والے موجودہ ججز کو نہیں ہٹایا جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت میں ججز کی تعداد بڑھ جائے گی جس کی بعض ماہرین کی نظر میں آئین میں اجازت نہیں۔

نواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اور پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق نائک کی سربراہی میں قانونی ماہرین کی ایک کمیٹی قانونی پیچیدگیوں کے حل پر غور کرے گی۔

اس پر فاروق نائک نے ٹی وی چینلز کو بتایا کہ اس عمل میں وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم کوشش کریں گے کہ یہ کام جتنا جلد ممکن ہو مکمل ہوجائے۔ لیکن اس میں کوئی برائی نہیں کہ ججز کی (حقیقی) بحالی بارہ مئی کے بعد ہو پائے۔‘

 مبصرین اور سیاست دانوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف معزول ججز کی بحالی کے اقدام کے خلاف کوئی قدم اٹھاسکتے ہیں۔ کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر مشرف نے پیپلز پارٹی کو ڈھکی چھپی وارننگ دی ہے کہ اگر حالات خراب ہوئے تو وہ پارلیمان کو برخواست کرسکتے ہیں۔
صدر پرویز مشرف نے عوامی سطح پر اپنا ردعمل نہیں ظاہر کیا ہے۔ تاہم ایوان صدر میں وہ حالات پر غور کرنے کے لیے مسلم لیگ (ق) اور دیگر سیاسی اتحادیوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔

صدر مشرف کو خدشہ ہے کہ ججز کی بحالی کا سیاسی عمل پارلیمان میں ان کے مواخذے تک جاسکتا ہے۔

حال میں بعض مبصرین اور سیاست دانوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف معزول ججز کی بحالی کے اقدام کے خلاف کوئی قدم اٹھاسکتے ہیں۔ کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر مشرف نے پیپلز پارٹی کو ڈھکی چھپی وارننگ دی ہے کہ اگر حالات خراب ہوئے تو وہ پارلیمان کو برخواست کرسکتے ہیں۔

لیکن اب جب کہ حکمراں اتحاد نے ججز کی بحالی کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے، کیا صدر مشرف اپنے پتے کھیلیں گے؟ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید وہ ڈگمگا جائیں۔

ماضی قریب میں صدر کی اختلافی سیاست سے ملک عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور اس سے گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی اقتصادی ترقی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس وجہ سے آج وہ پاکستان میں سب سے غیرمقبول رہنما بن گئے ہیں۔

بعض مبصرین کی نظر میں فوج صدر مشرف کی وقت پر مدد کرسکتی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فوج نے حال میں خود کو سیاست سے الگ رکھا ہے۔

اور سیاسی سطح پر نئی حکومت، ججز اور سِول سوسائٹی سب ہی صدر مشرف کے خلاف صف آراء ہیں۔ ان حالات میں صدر مشرف کے پاس صرف دس ہیں کہ وہ خود کو اس بھنور سے نکال لیں۔

بحالی پیکج کے تحت
موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے: زرداری
وکلاء تحریکچاند دیکھو چاند
کیا کوئی عوامی مسائل کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
نواز شریفدبئی میں مذاکرات
چہرے پر مایوسی مگر پیش رفت’مثبت‘
اسفندیار ولی خاناتحادیوں کا موقف
’آنکھیں بند کر کے تائید نہیں کریں گے‘
مولانا فضل الرحمنقرارداد سے بحالی
ججوں کی بحالی کے اعلان پر ملا جلا ردِعمل
منیر اے ملکججوں کی بحالی
حکمران اتحاد کے اس فیصلے کا خیرمقدم
کامل علی آغاسینیٹ ڈائری
دبئی نہیں دباؤ مذاکرات ہیں: کامل علی آغا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد