’جوڑ توڑ کی ماہر شخصیت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں ججوں کی بحالی پر اختلاف کے بعد پنجاب میں سلمان تاثیر کی بطور گورنر تعیناتی کے فیصلے کو پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کی پہلی بڑی مشترکہ جارحانہ سیاسی پیش قدمی قرار دیا جارہا ہے۔ سلمان تاثیر ایک سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ لاہور کی ایک بڑی کاروباری شخصیت بھی ہیں اور سیاسی حلقوں میں انہیں جوڑ توڑ کا بادشاہ اور سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم کی کچھ ایسی ہی صلاحیتوں کا نعم البدل سمجھا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید چودھری نے بتایا کہ سلمان تاثیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں قاسم ضیاء اورمیاں یوسف صلاح الدین کے عزیز اور برصغیر کے نامور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ ایلس فیض کے بھانجے ہیں۔ سلمان تاثیر کے والد ڈاکٹر محمد دین تاثیر اس صدی کی دوسری چوتھائی کے ایک بڑے شاعر،ادیب اور دانشور تھے۔ فیض احمد فیض کے ہم زلف ایم ڈی تاثیر کواپنی جوانی میں علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر کے قدموں میں بیٹھنے کا موقع ملاتھا۔ وہ خوش گو شاعر کے ساتھ ساتھ انتہائی نکتہ رس نقاد بھی تھے۔وہ پہلے ہندوستانی تھے جس نے کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔ سنہ انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو پہلی باراقتدار میں آئیں تو سلمان تاثیر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبے کی نواز شریف حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب نواز شریف نے وفاق کا اقتدار سنبھالا تو سلمان تاثیر حکومت مخالف پیپلز پارٹی کی لانگ مارچ میں پیش پیش رہے اور گرفتار ہوکر جیل گئے۔اس زمانے میں کہا گیا کہ انہیں جیل میں خاص طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ان کا اور نواز شریف کا تعلق تلخیوں سے بھرا ہوا ہے۔ سنہ انیس سو ترانوے میں سلمان تاثیرنے پاکستان کرکٹ بورڈ میں خزانچی کے فرائض انجام دیے اور بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات کے مالی امور کے انچارج بھی رہے۔ اکاؤنٹنسی کی اعلی تعلیم سے آراستہ سیاستدان سلمان تاثیر نے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار پر بھی خصوصی توجہ دی،آج بھی لاہور میں ان کی آڈٹ فرم اچھی ساکھ رکھتی ہے، متمول علاقوں میں ڈیپارٹمنٹل سٹورز کا سلسلہ ’پیس‘، ’ورلڈ کال‘ ٹیلی فون اور کیبل نیٹ ورک، ’ڈیلی ٹائمز‘ روزنامہ ’آج کل‘ اور ٹی وی چینل ’بزنس پلس‘ ایسے تجارتی و صحافتی ادارے ہیں جن کی کامیابی میں بڑا ہاتھ سلمان تاثیرکی انتظامی صلاحیتوں کا ہے۔ نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد بزنس پلس وہ پہلا ٹی وی چینل ہے جس کی ٹیم کی نواز شریف سے ان کے ایک انٹرویو کے معاملے پر بدمزگی ہوئی اور ٹی وی چینل کی ٹیم نے الزام عائد کیا کہ ان کی ٹیپ چھین لی گئی تھی۔نواز شریف کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور ان الزامات کو ایک سازش قرار دیا تھا۔ اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد جب مسلم لیگ قاف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو سلمان تاثیر وفاقی نگران کابینہ کے رکن اور ان کے چینل کے ایک میزبان پنجاب کابینہ کے نگران وزیر بنے۔ سیاسی حلقوں میں انہیں جوڑ توڑ کا ماہر سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے اپنی انہی صلاحیتوں کی بدولت پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی برقرار ر کھتے ہوئے وہ صدر پرویز مشرف کے بھی قریب ہوئے، نگران دور میں وفاقی وزیر بنے اور اب گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے اس طرح نامزد ہوئے کہ مسلم لیگ نون کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی پسند ہیں یا صدر پرویز مشرف کا انتخاب۔۔۔۔۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی تعیناتی ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کا رنگ پھیکا پڑچکا ہے اور وفاقی کابینہ سے مسلم لیگ نون کے مستعفی ہونے کے بعد یہ سوال بار بار اٹھایا جارہا ہے کہ کیا جواباً پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت کو نقصان پہنچائے گی؟ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر کہیں کسی مقتدر حلقے میں یہ سوچ موجود ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ نون کا تختہ الٹ کر پیپلز پارٹی مسلم لیگ قاف اور دیگر جماعتوں کی حکومت قائم کی جائے تو پھر اس مقصد کے لیے پنجاب کےگورنر ہاؤس میں سلمان تاثیر کی موجودگی موزوں ترین ہے۔ | اسی بارے میں گورنر حلف برادری،(ن) لیگ کا بائیکاٹ15 May, 2008 | پاکستان سلمان تاثیر گورنر پنجاب نامزد15 May, 2008 | پاکستان نواز و شہباز کے کاغذات منظور15 May, 2008 | پاکستان لیگی استعفے، پی پی کا اہم اجلاس14 May, 2008 | پاکستان بلوچستان:ذوالفقار مگسی نئےگورنر 27 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||