گورنر حلف برادری،(ن) لیگ کا بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات اور حال ہی میں کابینہ سے مستعفی ہونے والے وزیرِ تعلیم احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے رہنما پنجاب کے نئے نامزد کردہ گورنر سلمان تاثیر کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گے۔ بی بی سی کے حسین عسکری کو انٹرویو دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا اور اب تک نہ ہی جج بحال ہوئے ہیں اور صدر مشرف کی جانب سے تقرریاں بھی کی جا رہی ہیں جو کہ قابلِ قبول نہیں۔ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ پنجاب کے نئے گورنر سلمان تاثیر کی تعیناتی میں ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ جمعرات کو نواز شریف کی ماڈل ٹاون میں واقع رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے تحت گورنر کی تعیناتی کے اختیارات صدر کے پاس ہیں لیکن تاہم تقرری کیلئے صدر کو وفاقی حکومت سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے وضاحت طلب کرتے ہیں کہ سلمان تاثیر کی بطور گورنر تعیناتی صدر پرویز مشرف کے ساتھ مشورے کے بغیر کیسے ممکن ہوئی ہے۔ نثار علی خان نے نئے گورنر سلمان تاثیر پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ایک متنازعہ شخصیت ہیں اور وہ اس عہدے پر فائز ہونے کے کسی صورت میں بھی اہل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے پاور شیئرنگ معاہدے کے تحت گورنر سندھ کو اُن کی پوزیشن پر قائم رکھا ہے جبکہ سندھ میں ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں بیس نشتیں ہیں اور صوبائی اسمبلی میں اکثریت نہیں ہے۔ اُن کے بقول مسلم لیگ نون کی قومی اسمبلی میں ترانوے نشتیں ہیں اور پنجاب میں اُن کی جماعت نے ایک سو پینسٹھ سیٹوں کے ساتھ حکومت قائم کر رکھی ہے لہذا اتحادی جماعت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ صدر نے پنجاب کے گورنر کی تعیناتی کر دی اور یہ کیسے ممکن ہوا کہ وفاقی حکومت کو اس بات کی کانوں کان کوئی خبر بھی نہ ہوئی۔ مسلم لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ’اُن کی جماعت سمجھتی ہے کہ اس موقع پر سلمان تاثیر کی بطور گورنر پنجاب نامزدگی سے نون لیگ کی پنجاب میں حکومت کو ایک پیغام دیا جا رہا ہے کہ صدر مشرف پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ کا آغاز کرنا چاہتے ہیں اور اتحادی جماعتوں کو جو مینڈیٹ ملا ہے اس کی نفی کرنا چاہتے ہیں‘۔
نثار علی خان نے کہا کہ صدر مشرف نےایک سے زیادہ مرتبہ کہا تھا کہ وہ اپنے موجودگی میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو پاکستان نہیں آنے دیں گے لیکن وہ دونوں لیڈروں کو پاکستان آنے سے نہ روک سکے بلکہ وہ عوام کے اس سیلاب کو بھی نہ روک سکے جس نے اُن کے خلاف نفرت اور دو بڑی سیاسی جماعتوں کے حق میں اپنا فیصلہ صادر کیا۔ ان کے مطابق صدر مشرف قاف لیگ کی قیادت کو تبدیل کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اب عوام کے دیے ہوئے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول سلمان تاثیر کی گورنر پنجاب کے طور پر تعیناتی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے نو سال ایک فوجی جرنیل کا بمع انکی وردی کے مقابلہ کیا ہے اور سلمان تاثیر اتنی بڑی بلا نہیں ہیں کہ وہ سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کو اوپر نیچے کریں اور ان کی جماعت اُن کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ایک سوال کے جواب میں نثار علی خان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ عوام کے مسلم لیگ نون کے حق میں دیے گئے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسری طرف ایوان صدر کی طرف سے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ نثار علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت اتحاد سے علیحدہ ہو کر وفاقی حکومت کی اکثریت کو متاثر نہیں کرے گی اور نہ ہی صدر مشرف کو اس موقع کا فائدہ اُٹھانے دی گی۔ اُنہوں نے کہا کہ مُلک اس وقت گھمبیر ترین معاملات میں اُلجھا ہوا ہے جس کا بوجھ تمام اتحادی جماعتوں پر ہے اور مسلم لیگ نون اس موقع پر بُرد باری اور تحمل سے ایشوز کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔ | اسی بارے میں ’سیاسی جور توڑ کی ماہر کاروباری شخصیت‘ 16 May, 2008 | پاکستان سلمان تاثیر گورنر پنجاب نامزد15 May, 2008 | پاکستان نواز و شہباز کے کاغذات منظور15 May, 2008 | پاکستان لیگی استعفے، پی پی کا اہم اجلاس14 May, 2008 | پاکستان بلوچستان:ذوالفقار مگسی نئےگورنر 27 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||