BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 May, 2008, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باسٹھ نکاتی آئینی پیکج تیار: آصف

زرداری
ہم چاہتے ہیں کہ یہ آئینی پیکج اتنا ہی مکمل ہو جتنا کہ انیس سو تہتر کا آئین : آصف
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے باسٹھ نکاتی آئینی پیکج تیار کرلیا ہے اور آج وزیر اعظم کو پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بات انہوں نے جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی ایک تنظیم ’سیفما‘ کی دو روزہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی کاپی آج وزیر اعظم کو پیش کی جا رہی ہے اور اس کی کاپی میاں نواز شریف سمیت اپنے اتحادیوں کو بھی بھیج رہے ہیں اور پھر پارلیمان میں پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ جلدی بازی کی وجہ سے پیکیج میں کوئی خامی رہ جائے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ آئینی پیکج اتنا ہی مکمل ہو جتنا کہ انیس سو تہتر کا آئین۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے بتایا کہ اگر ممکن ہوا تو بجٹ سے پہلے اسے منظور کریں اور اگر ایسا نہ ہوا تو کم از کم بجٹ سے پہلے پارلیمان میں پیش کردیں۔

’ہم قانون کے دائرے میں رہ کر تمام کام کرنا چاہتے ہیں اور تمام سٹیک ہولڈرز سے کہتے ہیں کہ وہ بردباری کا مظاہرہ کریں۔‘

انہوں نے کہا ’ابھی ان کی حکومت کو ساٹھ روز ہوئے ہیں اس عرصہ میں تو نیا پیدا ہونے والا بچہ چل بھی نہیں پاتا تو آپ جمہوریت کے بچےسے کیسے اس عرصہ میں چلنے کی توقع کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ میڈیا اور عوام کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ حکومت صرف ساٹھ دن کی ہے اور اس کو وقت دیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ مہنگائی کیوں ہے، بےروزگاری کیوں ہے اور میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ ہمیں ابھی تک جمہوریت کیوں نہیں ملی۔

 پلیز ہم آپ کا مسئلہ حل کریں گے لیکن یہ مت بتائیں کہ سیاست کیسے کرنی ہے۔۔۔ آپ کی تحریک کے نتیجے میں جسٹس افتخار چوہدری باہر نہیں آئے بلکہ یہ ہماری حکومت کے حکم پر آزاد ہوئے۔
آصف زرداری

’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جمہوریت ملے گی ہمیں، مہنگائی بھی کم ہو گی اور روزگار بھی ملے گا۔‘

انہوں نے وکلاء تحریک کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’دیکھیں پلیز ہم آپ کا مسئلہ حل کریں گے لیکن یہ مت بتائیں کہ سیاست کیسے کرنی ہے۔۔۔ آپ کی تحریک کے نتیجے میں جسٹس افتخار چوہدری باہر نہیں آئے بلکہ یہ ہماری حکومت کے حکم پر آزاد ہوئے۔‘

آصف علی زرداری نے میڈیا کی طرف اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم پیٹریاٹ (صدر مشرف کی حمایت کرنے والے پیپلز پارٹی کے اراکین کی جماعت) نہیں بنے، نام نہاد مسلم لیگ کے ساتھ نہیں ملے تو اب ایسا کرنے کے لیے کیوں تیار ہوں گے۔‘

آصف علی زرداری نے میڈیا کی آزادی کے بارے میں اپنی تقریر میں ایک موقع پر فارسی کی کہاوت ’بلی کجا است‘ یعنی بلی کہاں ہے کا جہاں ذکر کیا وہاں کہا کہ انہیں مچھر کے کاٹنے کا بھی ڈر نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بلی کجا است کا پس منظر کچھ اس طرح معلوم ہوا ہے کہ ایک چوہا شراب کے ڈرم میں گر گیا اور جب اُسے نکالا گیا وہ نشے میں تھا اور پوچھنے لگا بلی کہاں ہے کیونکہ وہ نشے میں اس سے لڑنے کے لیے تیار تھا۔

جبکہ مچھر کاٹنے کی پریشانی کا پس منظر کچھ اس طرح پتہ چلا ہے کہ ایک بار ایک سابق وزیراعظم نے پنجاب کے ایک بڑے اخباری گروپ کے مالک سے کہا تھا کہ جب وہ جیل میں تھے تو انہیں مچھر بڑا کاٹتے تھے۔

قبل ازیں کانفرنس میں صحافیوں کے لیے ضابطہ اخلاق کا مسودہ تیار کیا گیا اور اُسے بحث کے لیے پیش کیا گیا۔

اسی بارے میں
لندن میں مذاکرات ناکام
09 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد