BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 May, 2008, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس افتخار کا دورہِ فیصل آباد

فیصل آباد بار سے جسٹس افتخار کا خطاب لانگ مارچ کا حصہ نہیں ہوگا
پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ معزول چیف جسٹس سنیچر کے روز فیصل آباد بار سے خطاب کرنے کے لیے جائیں گے اور ان کا یہ خطاب لانگ مارچ کا حصہ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ معزول چیف جسٹس راستے میں خطاب نہیں کریں گے تاہم لوگ راستے میں اُن کا استقبال کریں گے۔ انہوں کے کہا کہ افتخار محمد چودھری کا استقبال فیصل آباد میں ہی ہوگا۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی کے سلسلے میں وکلاء کا لانگ مارچ ملک کی تاریخ بدلنے میں سنگ میل ثابت ہوگا اور یہ ایک تاریخ ساز دن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری گزشتہ سوا سال سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ملک کو ایک فوجی آمر سے نجات دلانے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے اور اُن کی یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کو بحال اور عدلیہ کو آزاد نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جنوب کے علاقوں سے وکلاء برادری کے جلوس دس جون کو ملتان میں اکٹھے ہوں گے جبکہ اس لانگ مارچ کے پہلے مرحلے میں گیارہ جون کو یہ قافلے لاہور کے لیے روانہ ہوں گے اور راستے میں وکلاء اور جج صاحبان ساہیوال اور اوکاڑہ کی بار ایسوسی ایشن سے بھی خطاب کریں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں لاہور اور صوبہ پنجاب کے دیگر اضلاع سے وکلاء، سیاسی کارکن، طلباء اور تاجر برادری کی ایک بڑی تعداد اس لانگ مارچ میں شامل ہوگی جہاں سے یہ قافلے اسلام آباد کا رخ کریں گے جبکہ صوبہ سرحد کے وکلاء اور سیاسی کارکن بھی اسلام آباد میں اکٹھے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیر کے مختلف علاقوں سے بھی وکلاء برادری اس لانگ مارچ میں شامل ہوں گے۔

اعتزاز احسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئینی پیکج کے حوالے سے اُن سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تاہم انہوں نے کہا کہ جب آئینی پیکج سامنے آئے گا تو پھر اس کے بارے میں رائے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو کہ معاشرے کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کر کے انہیں اس لانگ مارچ میں شمولیت کے لیے آمادہ کریں گی۔

لاہورلاہور میں احتجاج
وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکن
وکلاء فائل فوٹوصدر کی سازش؟
اعتزاز کے خطاب میں ہاتھا پائی اور حملہ
لاہور مظاہرہکراچی پر احتجاج
پنجاب و سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی کامطالبہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد