’ججوں کی بحالی آئین میں نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی پارلینمٹ کے ذریعے ہی ہوگی اور اس ضمن میں بہت جلد پارلینمٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائےگا جس میں ججوں کی بحالی کے لیے ایک قرارداد یا بل پیش کا جائے گا۔ وزیر قانون نے یہ نہیں بتایا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کب بلایا جائے گا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پارلینمٹ کا اجلاس جتنی جلدی طلب کیا جائے اتنا ہی ملک و قوم کے حق میں ہے۔ جمعہ کے روز اپنے دفتر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے سلسلے میں پارلینمٹ کا مشترکہ اجلاس بجٹ سیشن سے پہلے بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے درمیان طے پانے والے اعلان مری کے مطابق طلب کیا جائے گا۔ وزیر قانون نے کہا کہ ایک آئینی پیکج بھی تیار کیا جا رہا ہے جس میں بہت سی چیزیں ہوگی تاہم انہوں نے اس بارے میں نہیں بتایا کہ آئینی پیکج میں عدلیہ کے حوالے سے کیا اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے دورِ اقتدار میں دو مرتبہ پی سی او نافذ کیا۔ سنہ دوہزار دو میں آنے والی پارلینمٹ نے پی سی او کی توثیق کی تھی جبکہ تین نومبرسنہ دو ہزار سات کے صدر کے اقدامات کو پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ نے ٹکا اقبال کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے اسے جائز قرار دیا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلینمٹ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو مسترد کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت قانون نے ابھی تک بل تیار نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کو بحالی کے حوالے سے جو کمیٹیاں بنائی گئی تھیں اس میں دو رائے آئی تھیں۔ ایک رائے کے مطابق ججوں کو اُسی تاریخ سے بحال کیا جائے جب انہیں معزول کیا گیا تھا جبکہ دوسری رائے کے مطابق ان کو دوبارہ تعینات کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ججوں کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں ہے جبکہ اُن کی دوبارہ تقرری آئین میں موجود ہے۔ فارق ایچ نائیک نے کہا کہ اُن کی ذاتی رائے میں اُن ججوں کو سینارٹی ملنی چاہیے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ان ججوں کے مستقبل کے بارے میں پارلینمٹ جو بھی فیصلہ کرے اس کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ سلمان تاثیر کو پنجاب کا گورنر بنانے کے بارے میں وزیر اعظم سے مشاورت کرنے کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ سترہویں ترمیم پاس ہونے سے پہلے صدر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ گورنر کی تعیناتی کے حوالے سے وزیر اعظم سے مشاورت کرتا تھا لیکن اس ترمیم کے پاس ہونے کے بعد صدر وزیر اعظم سے رائے تو لے سکتا ہے لیکن وہ اس رائے کو ماننے کا پابند نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ججز بحالی: آئینی تصادم کی جانب؟03 May, 2008 | پاکستان ’پی سی او کے تمام جج ہٹائیں‘05 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی:’بارہ مئی کو اجلاس مشکل‘09 May, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی پر تعطل برقرار10 May, 2008 | پاکستان حمایت جاری رکھیں گے: نثار12 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||