BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 May, 2008, 11:53 GMT 16:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی پر تعطل برقرار

آصف زرداری اور نواز شریف
ججوں کی بحالی کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کا نقطۂ نظر مختلف ہیں
پاکستان میں معزول ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار پر اختلافات کو دور کرنے کے لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان لندن میں ہفتے کو ہونے والے مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو وطن واپس جا رہے ہیں۔

مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے داخلہ امور کے مشیر رحمان ملک موجود تھے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کی نمائندگی خواجہ آصف نے کی۔ ان مذاکرات میں بعد میں مسلم لیگ کےصدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے حسین حقانی بھی شریک ہو گئے۔

مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی کے حسین حقانی نے بی بی سی کے ثقلین امام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں میں اس بات پر مکمل اتفاق رائے ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بالادستی برقرار رہنی چاہیئے اور جو جمہوری نظام بڑی مشکلوں سے پاکستان کو دوبارہ حاصل ہوا ہے اس کو کسی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے اصول اور عدلیہ کی آزادی پر دونوں جماعتوں میں اتفاقِ رائے ہے۔

’میرا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے اور دو اتحادیوں میں اگر رائے یا طریقۃ کار کے بارے میں اختلاف ہے تو اس کو سلجھانے کا ہمیشہ طریقۂ کار یہی رہتا ہے کہ بات چیت کو جاری رکھا جائے۔‘

حسین حقانی
حسین حقانی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ان مذاکرات میں شرکت کی

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بعد آصف زرداری بھی پاکستان جائیں گے اور ایک مقام سے دوسرے مقام پر چلے جانے سے ان کے تعلقات اور ان کی دوستی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا دعوی تھا کہ اعلان بھوربن اور میثاق جمہوریت کی روشنی میں ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس کی توثیق نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ہفتے کو شام گئے ہونے والی ملاقات میں متوقع تھی۔ لیکن آخری خبریں آنے تک ایسا نہیں ہوا۔

مذاکرات کے بعد خواجہ آصف نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ معالات طے پا گئے ہیں اور جمعہ کو جو تعطل کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے تمام رہنما جو اس وقت لندن میں موجود ہیں اتوار کو واپس وطن لوٹ رہے ہیں۔

ججوں کی بجالی کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بارہ تاریخ کو قرار داد ایوان میں پیش کر دی جائے گی۔

پیپلز پارٹی کے ایک اعلی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ معزول ججوں کی بحالی پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت لائحہ عمل یا طریفہ کار طے کرنے کے لیے ہو رہی ہے۔

خواجہ آصف
خواجہ آصف نے مسلم لیگ کی طرف سے مذاکرات میں شرکت کی

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ججوں کی بحالی سے کوئی سیاسی، قانونی اور آئینی بحران پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا پارٹی کی قیادت کسی ممکنہ بحران کی پیش بندی کرکے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

سنیچر کو ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں دونوں جانب سے مکمل راز داری برتی گئی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ان ملاقات کے مقام تک کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔

اس سے قبل جعمہ کو سات گھنٹے طویل مذاکرات کے دو ادوار میں معزول ججوں کی بحالی اور موجود ججوں کے مستقبل کے بارے میں اٹھنے والے سوالات پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کو دور نہیں کیا جا سکا تھا۔

یاد رہے کہ اس معاملے پر دونوں جماعتوں نےگزشتہ مہینوں میں مختلف جگہوں پر مذاکرات کے کئی دور کیے ہیں اور ان مذاکرات کے بعد یہ دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے معاملات کو طے کر لیا گیا ہے اور اس بارے میں پہلے تیس مئی اور پھر بارہ مئی کی تاریخوں کے اعلانات بھی کیے جا چکے ہیں۔

لندن میں گزشتہ روز ہونے والی ملاقاتوں کے بعد عام خیال یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب بارہ مئی کو بھی معزول ججوں کو بحال کیا جانا ممکن نہیں ہے۔

اس معاملے پر اختلافات سے مخلوط حکومت کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ میاں نواز شریف نے جمعہ کو اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بارہ مئی کو ججوں کے بحال نہ ہونے کی صورت میں وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں گے۔

تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر اختلافات کو بارہ مئی سے پہلے حل کر لیا جائے گا۔

اسی بارے میں
’حقائق چھپانے کی کوشش‘
30 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد