حکمراں اتحاد کی ڈیڈلائن کی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ججوں کی بحالی کا معاملہ اسلام آباد سے دبئی اور لاہور سے لندن تک گھومنے پھرنے کے بعد بھی تاحال حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور بظاہر لگتا ہے کہ ایک اور ڈیڈ لائن دی جائے گی۔ چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ججوں کی بحالی کے بارے میں مذاکرات شیطان کی آنت سے بھی طویل ہوتے جا رہے ہیں اور اس بارے میں اب بعض مبصرین شبہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ حکمران اتحاد کی ایک چال بھی ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں ڈالر کی نسبت روپے کی قدر میں آٹھ روپے سے زائد کمی واقع ہوچکی، سٹاک مارکیٹ میں مندی ہے، تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ذرائع ابلاغ، سیاسی حلقے اور عام آدمی، ججوں کی بحالی کے کمبل میں ہی لپٹے نظر آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں اگر ججوں کا معاملہ حل ہوگیا تو میڈیا کی توپوں کا رخ مہنگائی کے طوفان سمیت دیگر مسائل کی طرف مُڑ جائے گا جو حکمران اتحاد کے لیے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری دونوں کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں ان کی کوشش اور ترجیح حکومتی اتحاد کو بکھرنے سے بچانا ہے۔ ان کے یہ بیانات بظاہر ججوں کی بحالی کے بارے میں بات چیت کو جان بوجھ کر طویل کرنے اور مہنگائی سمیت دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کی رائے کو ایک حد تک تقویت پہنچاتے ہیں۔
تاہم جاوید ہاشمی اور چوہدری نثار علی خان اس جماعت کے ایسے نمائندے ہیں جو اب بھی بارہ مئی کی ڈیڈ لائن پر کسی قیمت سمجھوتہ نہ کرنے کی بات زور شور سے کر رہے ہیں اور آر یا پار پر اڑے نظر آتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان جو حکومت میں شمولیت سے لے کر ججوں کی بحالی تک تمام امور کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بات چیت میں سرفہرست رہے انہیں لندن مذاکرات میں اپنی جماعت نے شامل ہی نہیں کیا۔ دبئی میں دو روزہ بات چیت کے بعد جب میاں نواز شریف آصف علی زرداری کی طرف سے بھیجی ہوئی گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تو انہوں نے شہباز شریف اور خواجہ آصف کو اپنے ساتھ بیٹھنے کو کہا جبکہ چوہدری نثار علی خان خاموشی سے اکیلے ایک اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما کے مطابق دبئی مذاکرات کے موقع پر چوہدری نثار علی خان کے سخت اور تلخ لہجے کی وجہ سے اتحاد ٹوٹتے ٹوٹتے بچا اور اس کے لیے میاں نواز شریف کو عین وقت پر مداخلت کرنی پڑی۔ ججوں کی بحالی کے بارے میں مذاکرات کے اہم موڑ (لندن ٹاکس) سے چوہدری نثار علی کی غیرحاضری بھی ان خدشات کو تقویت پہنچاتی ہے جس کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کی طوالت ایک حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک وزیر نے بتایا کہ لندن بات چیت کی ناکامی کی صورت میں بھی مسلم لیگ (ن) فوری طور پر حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق اگر ضروری ہوا تو بارہ مئی کو اسلام آباد میں مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی اتحاد سے علیحدگی کے لیے مسلم لیگ (ن) ڈیڈ لائن دے گی کی فلاں تاریخ تک اگر جج بحال نہ ہوئے تو وہ حکومت سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ ان کے بقول ہوسکتا ہے کہ اس مہلت کے دوران مسلم لیگی وزراء دفاتر نہ جانے کا فیصلہ بھی کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما ججوں کی بحالی کے سوال پر اپنی جماعت کی پیپلز پارٹی کے ساتھ چوہے بلی کے کھیل کی سختی سے تردید کرتے ہیں لیکن کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ انہیں دال میں کچھ کالا لگتا ہے اور یہ معاملہ پنجابی زبان کی اس کہاوت سے مطابقت رکھتا ہے کہ ’۔۔۔ چوراں نال رلی ہوئی ہے۔‘ ججوں کی بحالی کے سوال پر بظاہر عام لوگوں کی نظر میں پاکستان پیپلز پارٹی ولن اور مسلم لیگ (ن) ہیرو کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ سو سنار کی ایک لوہار کی۔ ان کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ لوہار کب اپنی باری لیتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||