BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 May, 2008, 12:02 GMT 17:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی سی او ججوں کو نہیں مانتے: بار

وکلاء
پاکستان بار کونسل نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کی قانونی حثیت کو تسلیم کرنے سےانکار کردیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ اگر بارہ مئی تک پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے جج بحال نہ ہوئے تو سولہ مئی کو لاہور میں وکلاء کی تنطیموں کا اجلاس ہوگا جس میں وکلاء کا آئندہ کا لائحہ عمل وضح کیا جائے گا۔

پاکستان بار کونسل کا اجلاس سنیچر کو کونسل کے وائس چئیرمین حاجی سیدالرحمن کی صدارت میں سپریم کورٹ میں ہوا جس میں موجودہ حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کی طرف سے بارہ مئی کو قومی اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحالی کے اعلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں اس حوالے سے آئینی ماہرین پر مشتمل ایک پانچ رکنی ٹیم کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔

اجلاس کے بار کونسل کے وائس چئرمین نے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ بارہ مئی کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے جج صاحبان بحال نہ ہوئے تو وکلاء اس صورتحال کا جائزہ لیں گے اور سولہ مئی کو وکلاء کی تنظیموں کے اجلاس کے بعد سترہ مئی کو ملک کی چاروں صوبائی ہائی کورٹس بار کے صدور کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ملک میں تین نومبرکو لگنے والی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کی قانونی حثیت تسلیم کرنے کے بارے میں قرارداد پیش کی گئی جسے اکثریت نے مسترد کر دیا اور کہا کہ عدلیہ کی بحالی دو نومبر سنہ دوہزار سات کی پوزیشن پر ہونی چاہیے۔

دو نومبر دو ہزار سات کی پوزیشن
 اجلاس میں پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کی قانونی حثیت تسلیم کرنے کے بارے میں قرارداد پیش کی گئی جسے اکثریت نے مسترد کر دیا اور کہا کہ عدلیہ کی بحالی دو نومبر سنہ دوہزار سات کی پوزیشن پر ہونی چاہیے
سیدالرحمن

انہوں نے کہا کہ آئین میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد سترہ بتائی گئی ہے جبکہ بارہ مئی کو معزول ججوں کی بحالی کی صورت میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد چھبیس ہوجائے گی۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چئرمین نے کہا کہ بارہ مئی تک ججوں کی بحالی کا انتظار کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وکلاء کی تحریک ختم ہوگئی ہے انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران وکلاء کے بھوک ہڑتالی کیمپ اور جمعرات کے روز عدالتوں کا ہفتہ وار بائیکاٹ جاری رہے گا۔

سیدالرحمان نے کہا کہ اجلاس میں آزاد ججوں اور اُن ہزاروں وکلاء کی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ہاتھوں مصیبتیں جھیلنے کے باوجود ملک میں جمہوریت، آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی کا مشن جاری رکھا۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بےنظیر بھٹو کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے ملک میں جمہوریت اور آزاد عدلیہ کے قیام کے لیے اپنی جان بھی گنوا دی۔

پاکستان بار کو نسل کے وائس چئرمین نے کہا کہ لطیف کھوسہ نے وکلاء کی تحریک ختم کرنے کے حوالے سے اپنی قرارداد واپس لے لی ہے۔

نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
منیر اے ملکججوں کی بحالی
حکمران اتحاد کے اس فیصلے کا خیرمقدم
مولانا فضل الرحمنقرارداد سے بحالی
ججوں کی بحالی کے اعلان پر ملا جلا ردِعمل
اسفندیار ولی خاناتحادیوں کا موقف
’آنکھیں بند کر کے تائید نہیں کریں گے‘
’نظریۂ ضرورت‘
ضروری ہوا تو وزیراعظم بنوں گا: آصف زرداری
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد