BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 May, 2008, 14:57 GMT 19:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئین: ایوب خان کی روش اب تک جاری

پرویز مشرف اور یوسف رضا گیلانی(فائل فوٹو)
تھوڑی سی اونچ نیچ یا اختیارات جانے کا خوف صدر کو اسی اقدام پر مجبور کر سکتا ہے جو ماضی کے کئی صدور نے بھی اٹھائے
پاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان نے ملک میں صدارتی نظام قائم کرکے تمام تر اختیارات اپنے پاس رکھنے کی ایک کوشش کی۔ اسی وجہ سے انہیں لائل پور کا گھنٹہ گھر کہا جانے لگا۔ جس طرح لائل پور کے تمام تر راستے گھنٹہ گھر آ کر ملتے تھے اسی طرح ان کی جانب سے قوم کو دیے گئے انیس سو باسٹھ کے آئین میں اہم اختیارات کا ممبع صدر یعنی وہ خود قرار پائے۔

صدر ایوب کے بعد آئین کو 1973 میں صدارتی سے پارلیمانی سانچے میں ڈھالنے کی بہت کوششیں ہوئیں۔ لیکن آئینی ماہرین کے مطابق پینتیس برس بعد بھی موجودہ آئین پارلیمانی سے زیادہ صدارتی نظر آتا ہے۔

اختیار کی حد
 ہے۔’امریکی صدر کے پاس کہاں اختیار ہے کہ وہ کانگرس کو تحلیل کر دے یا ریاستی حکومت کو نکال باہر کرے؟
حامد خان
آئینی ماہر اور تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کہتے ہیں کہ موجودہ آئین تو صدارتی سے بھی کچھ زیادہ دکھائی دیتا ہے۔’امریکی صدر کے پاس کہاں اختیار ہے کہ وہ کانگرس کو تحلیل کر دے یا ریاستی حکومت کو نکال باہر کرے؟‘

صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا بھی ان بااختیار صدور میں باآسانی شمار کیا جاسکتا ہے جنہوں نے گزشتہ آمروں اور کچھ خود جمع کرکے تقریبا تمام اہم اختیارات حاصل کر لیئے ہیں۔ انہیں اس وقت سیاسی طور پر کمزور ضرور لیکن بےاختیار صدر ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

نئی حکومت سپریم کورٹ کے معزول ججوں کی بحالی کے لیے متوقع آئینی پیکج میں صدر کے اختیارات میں کمی سے متعلق بھی اطلاعات کے مطابق بات ہو رہی ہے۔ لیکن آخر صدر کے پاس کون کون سے اختیارات ہیں۔

اس وقت قیدیوں کو معافی دینے، آرڈیننس جاری کرنے، کسی رکن کو بطور وزیر اعظم تعینات کرنے اور گورنر، وزراء اور مشیر تعینات کرنے کے اختیارات کے ساتھ صدر مشرف اپنی قائم کردہ قومی سلامتی کونسل کے خود سربراہ بھی ہیں۔

وہ مشترکہ مفادات کونسل، قومی اقتصادی کونسل اور قومی فنانس کمیشن بھی قائم کرسکتے ہیں جبکہ جوہری اثاثوں کے انتظام کے ادارے قومی کمانڈ اتھارٹی کی سربراہی بھی ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چیف الیکشن کمیشنر اور آڈیٹر جنرل مقرر کرسکتے ہیں۔ صدر اعلی عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی بھی چیف جسٹس کی مشاورت سے کرسکتے ہیں۔

صدارت اختیار
 صدر کے پاس جو انتہائی اہم اختیارات ہیں ان میں سے ایک فوجی قیادت کی تعیناتی کا ہے۔ وہ چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے علاوہ بری، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان تعینات کرسکتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ماضی میں فوج نے بار بار جمہوری اداروں میں مداخلت کی ہو یہ اختیار وزیر اعظم کی جگہ کسی اور کے ہاتھ میں ہونا مہلک ثابت ہوا ہے۔اس کے علاوہ منتخب ایوانوں کو گھر بھیجنے کا آرٹیکل اٹھاون ٹو بی بھی جمہوری اداروں کے سر پر لٹکتی تلوار ہے۔
لیکن اس کے علاوہ صدر کے پاس جو انتہائی اہم اختیارات ہیں ان میں سے ایک فوجی قیادت کی تعیناتی کا ہے۔ وہ چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے علاوہ بری، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہان تعینات کرسکتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ماضی میں فوج نے بار بار جمہوری اداروں میں مداخلت کی ہو یہ اختیار وزیر اعظم کی جگہ کسی اور کے ہاتھ میں ہونا مہلک ثابت ہوا ہے۔

اس کے علاوہ منتخب ایوانوں کو گھر بھیجنے کا آرٹیکل اٹھاون ٹو بی بھی جمہوری اداروں کے سر پر دائمی لٹکتی تلوار ہے جو صدر کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کسی بھی وقت دو چار وجوہات بتا کر ناصرف قومی بلکہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرسکتے ہیں یا پھر وہ جنگ یا ملکی انتشار کو وجہ بنا کر ملک میں ہنگامی حالت بھی نافذ کرسکتے ہیں۔

ان میں سے بعض اختیارات انیس سو ستانوے میں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے واپس لے لیے گئے تھے تاہم صدر مشرف نے ایل ایف او سترہویں ترمیم کے ذریعے واپس حاصل کر لیے۔

یہی اختیارات ہیں جن کی بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ صدر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے معزول ججوں کی بحالی کے متوقع ایگزیکٹو آرڈر کی توثیق کرنے سے انکار کرسکتے ہیں۔ بعض آئینی حلقے اس بابت آئین کے آرٹیکل اڑتالیس کی بات کرتے ہیں۔

صدر وزیر اعظم اختلافات کب کب
 صدر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے معزول ججوں کی بحالی کے متوقع ایگزیکٹو آرڈر کی توثیق کرنے سے انکار کرسکتے ہیں۔ بعض آئینی حلقے اس بابت آئین کے آرٹیکل اڑتالیس کی بات کرتے ہیں۔اس سے قبل مرحوم صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کی سفارشات پر حکم جاری نہ کرکے ان کے لیئے زندگی محال کر دی تھی۔ یہی کشیدہ صورتحال نواز شریف کی وزارت عظمی کے دور میں بھی دیکھنے کو ملی۔
صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اس طرز کے اہم معاملات پر اختلافات اگر پیدا ہوئے تو پہلی مرتبہ نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل مرحوم صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کی سفارشات پر حکم جاری نہ کرکے ان کے لیئے زندگی محال کر دی تھی۔ انیس سو اناسی میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور بعض ججوں کی تعیناتی پر دونوں میں شدید اختلافات دکھائی دیئے تھے۔

یہی کشیدہ صورتحال نواز شریف کی وزارت عظمی کے دور میں بھی دیکھنے کو ملی۔ غلام اسحاق خان نے فوجی سربراہ جنرل آصف نواز کی وفات کے بعد وزیر اعظم سے بغیر کسی مشاورت کے جنرل عبدالوحید کاکڑ کو نیا فوجی سربراہ مقرر کر دیا۔ نواز شریف کی صدر سے ڈکٹیشن نہ لینے کی تاریخی تقریر کے دوسرے روز نواز شریف کو چلتا کر دیا گیا۔

انیس سو ترانوے میں پیپلز پارٹی کے صدر فاروق لغاری صدر منتخب ہوئے تو بےنظیر بھٹو نے آٹھویں آیینی ترمیم کے خلاف ایوان میں بل لانے کی بات کی جس میں صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لیا جانا تھا۔ نواز شریف نے بھی اس موقع پر اس بل کی حمایت کا اعلان کیا تاہم وہ بل کبھی نہ آیا اور اپنا ہی صدر پیپلز پارٹی کے خلاف ہوا اور بےنظیر بھٹو کی حکومت کو اس نے فارغ کر دیا۔

اب ایسا کیا ہونے والا ہے کہ ایک صدر اپنے اختیارات اپنی رضامندی سے چھوڑنے کو تیار ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ ایوان صدر کی جانب سے ان اخباری اطلاعات کی تردید یا تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن ان خبروں کے مطابق صدر چند اختیارات سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔ لیکن آئینی ماہر حامد خان کہتے ہیں ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

’میرے نزدیک وہ نہیں کریں گے۔ اگر وہ کہتے بھی ہیں کہ وہ تیار ہیں تو میرے خیال میں وہ دھوکہ دے رہے ہیں اور اس کے پیچھے کوئی سازش تیار کر رہے ہیں حکومت کو کمزور کرنے کی، دونوں اتحادی جماعتوں کو لڑانے کی اور چیف جسٹس کو بحال نہ کرانے کی۔‘

ایک اور آئینی ماہر حفیظ الدین پیرزادہ سے دریافت کیا گیا کہ موجودہ حالات میں آئین میں یہ بظاہر عدم توازن کیسے دور کیا جاسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال موجودہ سیاستدانوں سے ہونا چاہیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمان چاہے تو اکثریت کی بنیاد پر ایسا کرسکتی ہے۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ صدر کے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اختیار کی موجودگی میں ایسا ممکن ہے تو ان کا جواب تھا کہ یہ ایک مفروضہ ہے جس کا وہ جواب نہیں دے سکتے۔

ہاتھ میں آیا اختیار چھوڑ دینا کسے پسند ہے۔ موجودہ صدر بھی فل الحال اپنے مضبوط قلعے میں انتہائی آرام سے بیٹھے نئی حکومت کی کارکردگی پر کڑی نگاہ ڈالے ہوئے ہیں۔ تھوڑی سی اونچ نیچ یا اختیارات جانے کا خوف انہیں اسی اقدام پر مجبور کر سکتا ہے جو ماضی کے کئی صدور نے بھی اٹھائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد