BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 May, 2008, 12:23 GMT 17:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن میں مذاکرات ناکام

نواز شریف اور آصف علی زرداری
نواز لیگ کے رہنماء جج بحال نہ ہونے کی صورت میں اتحاد سے الگ ہونے کی بات کر چکے ہیں جبکہ آصف زرداری نے کہا ہے کہ اتحاد ہمیشہ کے لیے ہے

پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف کے درمیان مذاکرات کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں تاہم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ سنیچر کی شام تک لندن میں ہیں اور ’اگر ضرورت پڑی تو مزید بات چیت ہو سکتی ہے۔‘

نواز شریف نے جمعہ کی شام کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد نہ ٹوٹے۔


نواز شریف نے بتایا کہ اختلافات کی وجہ تین نومبر کے بعد حلف لینے والے ججوں کا مستقبل تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پیشکش کی تھی کہ ان ججوں کے بارے میں فیصلہ معزول ججوں کی بحالی کے بعد عدلیہ پر ہی چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اس پر تیار نہیں تھے۔

نواز شریف نے کہا مسلم لیگ نون نے پی سی او ججز کے حوالے سے کڑوی گولی کھانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ حکمراں اتحاد برقرار رہے۔

صحافیوں نے جب ان سے مذاکرات کے بارے میں مزید بتانے کو کہا تو ان کا جواب تھا کہ وہ پاکستان واپس جا رہے ہیں اور بارہ مئی کے بعد ہی کچھ کہہ سکتے ہیں۔

اس سے قبل جمعہ کی دوپہر کو دونوں رہنماء نوازشریف کے گھر اکٹھے ہوئے اور مذاکرات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد وہ وہاں سے بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے ہسپتال چلے گئے جہاں ان کا کچھ روز قبل گھٹنے کا آپریشن ہوا ہے۔ اس دوران دونوں جماعتوں کے دیگر رہنماء اور صحافی نواز شریف کےگھر پر ہی رہے۔

اختلافات موجود ہیں
 میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور ابھی بھی دونوں رہنماؤں میں اختلافات موجود ہیں
شہباز شریف

کافی دیر گزرنے کے بعد مسلم لیگ نواز کے رہنماء اور وفاقی وزیر خواجہ آصف سے دونوں رہنماؤں کی واپسی میں تاخیر کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا ہو سکتا ہے کہ ہسپتال کے بعد وہ بات چیت کے لیے کہیں اور چلے گئے ہوں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جمعہ کو ہی کچھ فیصلہ ہو جائے کیونکہ خواجہ آصف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم نے فیصلہ آج ہی کرنا ہے‘۔

دوسری طرف مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے لندن میں کارکنوں سے خطاب کے دوران کہا کہ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور ابھی بھی دونوں رہنماؤں میں اختلافات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر جاری اختلافات کو ختم کیا جا سکے اور وہ اس کے لیے پیر تک انتظار کریں گے۔

انہوں نے کہا عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری رہیں گی اور ’اگر دوبارہ سڑکوں پر آنا پڑا‘ تو نواز شریف کے ساتھ دوبارہ سڑکوں پر آ جائیں گے۔

نواز شریف کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین نے بھی آصف زرداری سے ایک ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

الطاف حسین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ سب کے ساتھ مل جل کر چلا جائے۔

دریں اثناء اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس 12 مئی کو طلب کر لیا ہے۔

پارٹی کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ اور مرکزی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس پیر کو دن گیارہ بجے اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ہوگا۔ توقع ہے کے اس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ لندن مذاکرات کے نتائج پر غور ہوگا اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

مذاکرات شروع ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا تھا ہے کہ مسلم لیگ(ن) سے ان کا اتحاد مستحکم ہے اور دونوں جماعتوں میں جو بھی اختلافات ہیں مذاکرات سے دور کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مسلم لیگ(ن) سے اتحاد ہمیشہ کے لیے ہے۔

مسلم لیگ(نواز) اور پی پی پی کے رہنماؤں کی ججوں کی بحالی کے معاملے کے لیے اس ملاقات کا مقصد معزول ججوں کی بحالی کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ پر غور کرنا تھا۔

ملاقات سے پہلے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری نے اختلافات کی نوعیت بتائے بغیر صرف اتنا کہا کہ جو بھی اختلافات ہیں بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے دبئی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے ججوں کی بحالی کو بارہ مئی تک یقینی بنانے کے لیے ایک آئینی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دی جس کے بعد اب یہ معاملہ دونوں جماعتوں کے سربراہوں کے پاس ہے۔

لندن میں مذاکرات میں شرکت کے لیے آصف زرداری، خواجہ محمد آصف اور شہباز شریف جمعرات کو لندن پہنچے تھے۔

لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی خواہش تھی کہ مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کوہوجبکہ آصف زرداری کی درخواست پریہ جمعہ تک ملتوی کیا گیا۔

نواز شریفدبئی میں مذاکرات
چہرے پر مایوسی مگر پیش رفت’مثبت‘
وکلاء تحریکچاند دیکھو چاند
کیا کوئی عوامی مسائل کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
بحالی پیکج کے تحت
موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے: زرداری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد