زرداری، نواز ملاقات جمعہ کو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان ججوں کی بحالی پر مزید بات چیت جمعہ کو لندن میں متوقع ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنما یہ بات چیت ججوں کی بحالی کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کریں گے۔ توقع تھی کہ یہ ملاقات جمعرات کی رات کو ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا۔ ادھر مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے لندن میں ملاقات کی ہے اور امکان ہے کہ آصف زرداری بھی جمعہ کو متحدہ کے سربراہ سے ملاقات کریں گے۔ آصف زرداری مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے لندن پہنچے اور وسطی لندن میں ڈورچسٹر ہوٹل میں قیام پزیر ہیں۔ زرداری کے ساتھ مشیر داخلہ رحمن ملک بھی آئے ہیں جبکہ میاں نواز شریف پہلے ہی لندن میں موجود ہیں ۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی خواہش ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کو ہی ہو جبکہ آصف زرداری چاہتے ہیں کہ بات چیت کل یعنی جمعے کو ہو۔ دوسری جانب مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف اور خواجہ آصف بھی لندن پہنچ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے دبئی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے ججوں کی بحالی کو بارہ مئی تک یقینی بنانے کے لیے ایک آئینی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے گزشتہ رات گئے تک طویل اجلاس کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دے کر یہ معاملہ دونوں جماعتوں کے سربراہوں کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ججوں کی بحالی کے بارے میں چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ججوں کو بحال کرنے کے طریقۂ کار پر اختلاف ہے جسے ختم کرنے کے لیے کئی روز سے بات چیت جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ برطرف ججوں کو پارلیمان سے سادہ اکثریت سے منظور کردہ قرار داد کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ آئین اور قانون میں ترمیم کر کے جب تک وزیراعظم کو اس بارے میں اختیار نہیں دیا جاسکتا اس وقت تک بحالی کا حکم غیر قانونی ہوگا۔ مذکورہ کمیٹی میں وکلاء عبدالحفیط پیرزادہ اور اعتزاز احسن کو بھی شامل کیا گیا۔ جناب پیرزادہ کا موقف پیپلز پارٹی اور اعتزاز احسن کی رائے مسلم لیگ (ن) کے مؤقف سے قریب ہے۔ ججوں کی بحالی کے بارے میں پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی قرار داد کی حیثیت آئین یا قانون کے برابر نہیں ہے اور اگر قرار داد کی بناء پر وزیراعظم نے کوئی حکم جاری کیا تو وہ عدالتوں میں چیلنج ہوسکتا ہے اور ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ کا مؤقف ہے کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے ججوں کو برطرف کرنے کا حکم غیر آئینی ہے اور اگر اُسے ختم کرنے کے لیے آئین یا قانون میں ترمیم ہوئی تو وہ ان کے غیر آئینی اقدام کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ان کے بقول پارلیمان اگر قرار داد کے ذریعے صدر کے تین نومبر سن دو ہزار سات کے حکم کو غیر قانونی قرار دے تو معزول جج خود بخود بحال ہوجائیں گے۔ |
اسی بارے میں مسودہ تیار، مگر اختلافات موجود07 May, 2008 | پاکستان ’پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اتفاق ہونا باقی ہے‘30 April, 2008 | پاکستان دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے01 May, 2008 | پاکستان چہرے پر مایوسی مگر پیشرفت’مثبت‘01 May, 2008 | پاکستان اتفاق ہو گیا، اعلان کل ہوگا: نواز شریف01 May, 2008 | پاکستان ’دبئی فیصلے کا انتظار کریں گے‘30 April, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||