BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری، نواز ملاقات جمعہ کو

نواز شریف اور آصف زرداری(فائل فوٹو)
گزشتہ ہفتے دبئی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے ججوں کی بحالی کو بارہ مئی تک یقینی بنانے کے لیے ایک آئینی کمیٹی تشکیل دی تھی
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان ججوں کی بحالی پر مزید بات چیت جمعہ کو لندن میں متوقع ہے۔

دونوں جماعتوں کے رہنما یہ بات چیت ججوں کی بحالی کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کریں گے۔ توقع تھی کہ یہ ملاقات جمعرات کی رات کو ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا۔

ادھر مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے لندن میں ملاقات کی ہے اور امکان ہے کہ آصف زرداری بھی جمعہ کو متحدہ کے سربراہ سے ملاقات کریں گے۔

آصف زرداری مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے لندن پہنچے اور وسطی لندن میں ڈورچسٹر ہوٹل میں قیام پزیر ہیں۔

زرداری کے ساتھ مشیر داخلہ رحمن ملک بھی آئے ہیں جبکہ میاں نواز شریف پہلے ہی لندن میں موجود ہیں ۔

لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی خواہش ہے کہ مذاکرات کا پہلا دور جمعرات کو ہی ہو جبکہ آصف زرداری چاہتے ہیں کہ بات چیت کل یعنی جمعے کو ہو۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف اور خواجہ آصف بھی لندن پہنچ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے دبئی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے ججوں کی بحالی کو بارہ مئی تک یقینی بنانے کے لیے ایک آئینی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی نے گزشتہ رات گئے تک طویل اجلاس کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دے کر یہ معاملہ دونوں جماعتوں کے سربراہوں کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ججوں کی بحالی کے بارے میں چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ججوں کو بحال کرنے کے طریقۂ کار پر اختلاف ہے جسے ختم کرنے کے لیے کئی روز سے بات چیت جاری ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ برطرف ججوں کو پارلیمان سے سادہ اکثریت سے منظور کردہ قرار داد کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ آئین اور قانون میں ترمیم کر کے جب تک وزیراعظم کو اس بارے میں اختیار نہیں دیا جاسکتا اس وقت تک بحالی کا حکم غیر قانونی ہوگا۔

مذکورہ کمیٹی میں وکلاء عبدالحفیط پیرزادہ اور اعتزاز احسن کو بھی شامل کیا گیا۔ جناب پیرزادہ کا موقف پیپلز پارٹی اور اعتزاز احسن کی رائے مسلم لیگ (ن) کے مؤقف سے قریب ہے۔

ججوں کی بحالی کے بارے میں پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی قرار داد کی حیثیت آئین یا قانون کے برابر نہیں ہے اور اگر قرار داد کی بناء پر وزیراعظم نے کوئی حکم جاری کیا تو وہ عدالتوں میں چیلنج ہوسکتا ہے اور ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

مسلم لیگ کا مؤقف ہے کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے ججوں کو برطرف کرنے کا حکم غیر آئینی ہے اور اگر اُسے ختم کرنے کے لیے آئین یا قانون میں ترمیم ہوئی تو وہ ان کے غیر آئینی اقدام کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ان کے بقول پارلیمان اگر قرار داد کے ذریعے صدر کے تین نومبر سن دو ہزار سات کے حکم کو غیر قانونی قرار دے تو معزول جج خود بخود بحال ہوجائیں گے۔

نواز شریفدبئی میں مذاکرات
چہرے پر مایوسی مگر پیش رفت’مثبت‘
وکلاء تحریکچاند دیکھو چاند
کیا کوئی عوامی مسائل کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
بحالی پیکج کے تحت
موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے: زرداری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد