مسودہ تیار، مگر اختلافات موجود | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیرِ قانون و انصاف فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ ان کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی نے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کی قرارداد کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ قرارداد پر عملدرآمد کیسے اور کب ہوگا اسکا اعلان آصف علی زرداری اور نواز شریف کریں گے۔ فاروق نائیک نے یہ بات بدھ کی شب کمیٹی کے چوتھے اجلاس کے اختتام کے بعد کہی جو ان کے بقول کمیٹی کا آخری اجلاس تھا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نواز شریف سے ملاقات کے لیے لندن پہنچ رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف اور خواجہ آصف بھی لندن پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں شامل آئینی ماہرین عبدالحفیظ پیرزادہ اور اعتزاز احسن کے مابین قرارداد کے مسودے پر ہونے والی بحث میں کوئی کردار نہیں تھا۔ تاہم ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار پر ان سے ان کی رائے معلوم کی گئی جو کہ متضاد آراء ہیں اور ان کے مابین کسی ایک طریقہ کار پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔ ”اب فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ قرارداد کا مسودہ اور دونوں آئینی ماہرین کی آراء پارٹی سربراہان آصف علی زرداری اور نواز شریف کے سامنے رکھی جائیں گے اور وہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے کہ اس پر کس طرح عمل کیا جائے‘۔ انہوں نے صحافیوں کے بار بار اصرار کے باوجود قرارداد کے مسودے اور مجوزہ آئینی پیکج کی تفصیلات نہیں بتائیں البتہ یہ کہا کہ ججوں کی بحالی کے طریقۂ کار کے بارے میں حتمی فیصلہ آصف زرداری اور نواز شریف ہی کریں گے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکمران جماعتوں کے سربراہ مجوزہ قرارداد اور آئینی پیکج کے متن میں کوئی ردوبدل کرسکتے ہیں، تو ان کا جواب تھا ’جی اس بارے میں حتمی فیصلہ پارٹی سربراہان ہی کریں گے اور کوئی بھی انہیں ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا کیونکہ وہ جمہوری جماعتوں کے سربراہ ہیں‘۔ اس سوال پر کہ کیا بارہ مئی کو قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کردی جائے گی، ان کا جواب تھا کہ اس کا فیصلہ بھی پارٹی سربراہان کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں فاروق نائیک نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر فریقین کے مابین کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے کیونکہ جب اتحادی پارٹیوں کے رہنماؤں اور ان کے وکلاء قرارداد پر متفق ہوچکے ہیں تو اسے ڈیڈ لاک کس طرح کہا جاسکتا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان ممکنہ ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف اس وقت لندن میں ہیں اور دونوں سربراہان آپس میں بات چیت کرکے ملاقات کی تاریخ کا تعین کریں گے۔ فاروق نائیک نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر اب تک جو بھی پیش رفت ہوئی ہے اس پر اسفندیار ولی اور مولانا فضل الرحمن کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد اب تک صرف مسودہ ہی ہے اور پوری قوم منتظر ہے کہ اس مسودے میں کیا ہے لیکن فی الحال میں اس بارے میں کچھ نہیں بتاسکتا۔ قرارداد کی تیاری کے بعد اس پر عمل بھی ہونا ہے جس پر متضاد آراء ہیں اس لئے ہم اس تضاد کو ختم کئے بغیر قرارداد قومی اسمبلی میں پیش نہیں کرسکتے۔ |
اسی بارے میں فیصلہ ہم آہنگی سے، ملکی ترقی کے لیے: وزیر قانون02 May, 2008 | پاکستان بحالی قرار داد کے ساتھ آئینی پیکج02 May, 2008 | پاکستان ’پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اتفاق ہونا باقی ہے‘30 April, 2008 | پاکستان دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے01 May, 2008 | پاکستان چہرے پر مایوسی مگر پیشرفت’مثبت‘01 May, 2008 | پاکستان اتفاق ہو گیا، اعلان کل ہوگا: نواز شریف01 May, 2008 | پاکستان ’دبئی فیصلے کا انتظار کریں گے‘30 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||