BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حمایت جاری رکھیں گے: نثار

خصوصی انٹرویو
News image
 انہوں نے غیر قانونی طور پر ججوں کو باہر نکال دیا اور ہم نہ جانے کون سے قانون کی تلاش میں ہیں ان کو بحال کرنے کے لیے (قہقہ)۔ ہمیں غیر قانونی کام کو سیدھا کرنا ہے اور غیر قانونی کام کو سیدھا کرنا چاہیے۔
نواز شریف
وفاقی کابینہ میں شامل سینئر وزیر برائے مواصلات چوہدری نثار علی خان نے پیر کی صبح وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور ’انہیں یقین دلایا کہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی جماعت کے آج کے فیصلے سے قطع نظر اتحادی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے‘۔

ایک مختصر سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے وزیر اعظم کا اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعاون اور مصالحتی پالیسی جاری رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔ اس بیان میں ملاقات کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ تاہم چند حلقے اسے سینئر وزیر کی جانب سے ’الوداعی ملاقات‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔

سینیئر وزیر نثار علی خان کی وزیر اعظم سے یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب معزول ججوں کی بحالی سے متعلق حکمراں اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان لندن میں ناکام مذاکرات کے بعد مسلم لیگ (ن) اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مرکزی ورکنگ کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں کر رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف اپنے وفد کے ساتھ لندن سے واپس اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ اجلاس میں دو نومبر دو ہزار سات کی پوزیشن پر عدلیہ بحال نہ ہونے کی صورت میں مرکزی حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے کردار سے متعلق فیصلہ متوقع ہے۔

ادھر ججوں کے مسئلے اور کراچی میں گزشتہ برس بارہ مئی کے واقعات کے خلاف وکلاء، سول سوسائٹی کے اراکین اور اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کا اتحاد اے پی ڈی ایم آج یوم سیاہ کے طور پر منا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون جاری رہے گا کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ صدر کو دوبارہ تقویت ملے۔

یہ یا وہ۔۔۔۔؟
News image
 اگرچہ مسلم لیگ کہہ چکی ہے کہ عدلیہ کی عدم بحالی کی صورت میں ان کی جماعت کابینہ سے علیحدہ ہوسکتی ہے تاہم وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہ بننے کے عزم کا اظہار بھی کر رہی ہے۔
اگرچہ مسلم لیگ کہہ چکی ہے کہ عدلیہ کی عدم بحالی کی صورت میں ان کی جماعت کابینہ سے علیحدہ ہوسکتی ہے تاہم وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی کوشش کا حصہ نہ بننے کے عزم کا اظہار بھی کر رہی ہے۔

مسلم لیگ اور پی پی پی کی چار رکنی کمیٹی اتوار کو لندن میں اختلافات کو دور کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اتوار کو کمیٹی کے مذاکرات کے دو دور ہوئے تھے جن میں دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات کو ختم نہیں کیا جا سکا تھا۔

توقع ہے کہ مسلم لیگ کے رہنما آج سہہ پہر ایک اخباری کانفرنس میں قوم کو اپنے فیصلوں سے آگاہ کریں گے۔

وزیر اطلاعات شیری رحمٰنججوں کی بحالی
’بحران پیدا ہو گا‘شیری رحمٰن کا ٹیکسٹ بیان
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
وکلاءہم نہیں مانتے
ججوں کی مجوزہ بحالی میں ایک نئی رکاوٹ
مولانا فضل الرحمنقرارداد سے بحالی
ججوں کی بحالی کے اعلان پر ملا جلا ردِعمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد